کرسی ملنی چاہئے مگر افسوس کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے ان کو جھڑک دیا اور سخت جھڑکا کہ تم کو کرسی نہیں مل سکتی۔ سو یہ خدا کا ایک نشان تھا کہ جو کچھ انہوں نے میرے لئے چاہا وہ خود ان کو پیش آ گیا۔
اسی سلسلہ الہامات میں ایک یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ بلجت آیاتی یعنی میرے نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس واقعہ سے قریباً ڈیڑھ سال بعد عبدالحمید ملزم کو پھر گرفتار کیا گیا اور کتنی مدت زیر حراست رکھ کر اس سے پھر اظہار لئے گئے مگر اس نے یہی گواہی دی کہ میرا پہلا بیان ہی جھوٹا تھاجو عیسائیوں کے سکھلانے پر میں نے کہا تھا پس اس طرح خدا نے میری بریت کو مکمل کر دیا۔ اس الہام کے یہ معنی تھے کہ میری بریت کے لئے اور بھی خدا کی طرف سے نشان ظاہر ہوں گے سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔
اسی مقدمہ کے ذریعہ سے جو خون کے الزام کا مقدمہ تھا وہ الہامی پیشگوئی پوری ہوئی جو براہین احمدیہ میں اس مقدمہ سے ۲۰ برس پہلے درج تھی اور وہ الہام یہ ہے فبرّأہُ اللّٰہ ممّا قالوا وکان عند اللّٰہ وجیھا۔ یعنی خدا اس شخص کو اس الزام سے جو اس پر لگایا جائے گا بری کر دے گاکیونکہ وہ خدا کے نزدیک وجیہہ ہے سو یہ خدا تعالیٰ کا ایک بھاری نشان ہے کہ باوجودیکہ قوموں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے اتفاق کر لیا تھا مسلمانوں
ان پیشگوئیوں کے گواہ بہت سے احباب ہیں مثلاً منشی تاج الدین صاحب۔
میر ناصر نواب صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی سید محمد احسن صاحب۔
مولوی قطب الدین صاحب۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے۔ میر محمد اسمٰعیل صاحب۔ صاحبزادہ منظور احمد صاحب وغیرہ وغیرہ۔