ایک دفعہ کشفی طور پر مجھے یا روپیہ دکھائے گئے۔ اور پھر یہ الہام ہوا کہ ماجھے خان کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں پھر بعد اس کے کارڈ آیا جس میں لکھا تھا کہ ماجھے خان کے بیٹے کی طرف سے ہیں اور یا شمس الدین پٹواری کی طرف سے ہیں پھر اسی تشریح سے روپیہ آئے۔ ۱
جب میری لڑکی مبارکہ والدہ کے پیٹ میں تھی تو حساب کی غلطی سے فکر دا منگیر ہوا اور اس کا غم حد سے بڑھ گیا کہ شاید کوئی اور مرض ہو۔ تب میں نے جناب الٰہی میں دعا کی تو الہام ہوا کہ آید آن روزے کہ مستخلص شود۔ اور مجھے تفہیم ہوئی کہ لڑکی پیدا ہو گی۔ چنانچہ اس کے مطابق ۲۷؍رمضان ۱۳۱۴ ھ کو لڑکی پیدا ۲ ہوئی جس کا نام مبارکہ رکھاگیا۔
ایک اور زبردست نشان جو میری صداقت میں ظاہر ہوا یہ ہے کہ ایک مولوی نے کتاب نبراس تالیف صاحب زمرد کا حاشیہ لکھتے ہوئے میرے حق میں کسرہ اللّٰہ کی بد دعا کی اس بد دعا کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے حق میں یہ بد دعا کی جائے وہ ایسا تباہ ہو جائے کہ اس کی ساری اولاد مر جائے اور وہ ابتر رہ جائے سو ابھی مولوی مذکور حاشیہ ختم کرنے نہ پایا تھا کہ اس کی سب اولاد مر گئی اور وہ خود بھی ابتر ہو گیا اور مجھے خدا نے ایک اور بیٹا عطا فرمایا۔
۱۔ اس کرامت کے گواہ شیخ حامد علی صاحب ساکن تھہ غلام نبی۔ کوڈا باشندہ ضلع امرتسر اور قادیان کے اکثر باشندے ہیں۔
۲۔ اس کے گواہ مولوی نور الدین صاحب ۔ مولوی عبدالکریم صاحب اور دیگر بہت سے احباب ہیں۔