بلکہ مردانگی اور انصاف میں اس سے بڑھ کر۔ لیکن خدا کا اور فضل یہ ہوا کہ خود عبدالحمید نے عدالت میں اقرار کر لیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کے لئے ترغیب دی گئی تھی پس صاحب ضلع نے اس آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور وشور کا چٹھا لکھ کر مجھے بری کر دیا اور تبسم کے ساتھ عدالت میں مجھے مبارکباد دی۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ اسی مذکورہ بالاسلسلہ الہام میں ایک الہام یہ تھا کہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق۔ چنانچہ اس الہام کا ایک حصہ تو اس طرح پر پورا ہوا کہ ہمارے مخالفین یعنی عبدالحمید اور اس کو سکھانے والے عیسائیوں میں پھوٹ پڑی کہ عبدالحمید نے صاف اقرار کر لیا کہ مجھے ان لوگوں نے یہ جھوٹی بات سکھائی تھی ورنہ اصل میں یہ کچھ بات نہ تھی صرف ا ن کے بہکانے پر میں نے ایسا کہا اور یہ الہام قبل از وقت تین سو۳۰۰ سے زیادہ اشخاص کو سنایا گیا تھا اور وہ زندہ ہیں۔ اور دوسرا حصہ الہام کا اس طرح سے پورا ہواکہ دوران مقدمہ میں جب موحدین کے ایڈوکیٹ مولوی محمد حسین میری مخالفت میں عیسائیوں کے گواہ بن کر پیش ہوئے تو بر خلاف اپنی امیدوں کے میری عزت دیکھ کر اس طمع خام میں پڑے کہ ہم بھی کرسی مانگیں چنانچہ آتے ہی انہوں نے سوال کیا کہ مجھے ان پیشگوئیوں کے گواہ ہزاروں آدمی موافق و مخالف موجود ہیں چنانچہ بعض کے نام یہ ہیں ۔ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب۔ شیخ رحمت اللہ صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔خلیفہ نورالدین صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب بی اے۔ مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے۔ وغیرہ