کتاب البریّت بھی تالیف ہوئی تا ہمیشہ کے لئے ان کو یاد رہے کہ جو کچھ قبل از مقدمہ ان دوستوں کو خبر دی گئی وہ سب باتیں کیسی صفائی سے ان کے روبرو ہی پوری ہو گئیں۔ یہ مقدمہ اس طرح سے ہوا کہ ایک شخص عبدالحمید نام نے عیسائیوں کے سکھلانے پر مجسٹریٹ ضلع امرتسر کے روبرو اظہار دئے کہ مجھے مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ اس پر مجسٹریٹ امرتسر نے میری گرفتاری کے لئے یکم اگست کو وارنٹ جاری کیا جس کی خبر سن کر ہمارے مخالفین امرتسر و بٹالہ میں ریل کے پلیٹ فارموں اور سڑکوں پرآآ کر کھڑے ہوتے تھے تا کہ میری ذلت دیکھیں لیکن خدا کی قدرت ایسی ہوئی کہ اول تو وہ وارنٹ خدا جانے کہاں گم ہو گیا۔ دوم مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو بعد میں خبر لگی کہ اس نے غیر ضلع میں وارنٹ جاری کرنے میں بڑی غلطی کھائی ہے پس اس نے ۶؍اگست کو جلدی سے صاحب ضلع گورداسپور کو تار دیا کہ وارنٹ فوراً روک دو جس پر سب حیران ہوئے کہ وارنٹ کیسا۔ لیکن مثل مقدمہ کے آنے پر صاحب ضلع گورداسپور نے ایک معمولی سمن کے ذریعہ سے مجھے بلا یا اور عزت کے ساتھ اپنے پاس کرسی دی یہ صاحب ضلع جس کا نام کپتان ایم ڈبلیو ڈگلس تھا بسبب زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج ہونے کے فوراً سمجھ گیا کہ مقدمہ بے اصل اور جھوٹا ہے اس لئے میں نے ایک دوسرے مقام میں اس کو پیلاطوس سے نسبت دی ہے۔
سید حامد شاہ صاحب سپرنٹنڈنٹ دفتر صاحب ضلع۔ شیخ مولا بخش صاحب سوداگرو دیگر جماعت سیالکوٹ۔ شیخ رحمت اللہ صاحب لاہور۔ منشی ظفر احمد صاحب۔ میاں محمد خان صاحب۔ منشی محمد اروڑا صاحب و دیگر جماعت کپورتھلہ۔ خلیفہ نور الدین صاحب و دیگر جماعت جموں۔ چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر۔ سید امیر شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر وغیرہ یہ چند ایک نام بطور نمونہ کے لکھے گئے ہیں۔