کی مانند آہستہ حرکت کرتی ہوئی میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور جب قریب پہنچی تو میر ی آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا تھا۔ پھر الہام ہوا ما ھذا الا تھدید الحکام یعنی یہ ایک مقدمہ ہو گا اور صرف حکام کی باز پرس تک پہنچ کر پھر نابود ہو جائے گا اور بعد اس کے الہام ہوا انّی مع الافواج اٰتیک بغتۃ۔ یاتیک نصرتی اِبْراء انّی انا الرحمٰن ذوالمجد والعُلٰی۔ یعنی میں اپنی فوجوں (یعنی ملائکہ) کے ساتھ ناگہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا اور اس مقدمہ میں میر ی مدد تجھے پہنچے گی۔ میں انجام کار تجھے بری کروں گا اور بے قصور ٹھہراؤں گا۔ میں ہی وہ رحمان ہوں جو بزرگی اور بلندی سے مخصوص ہے۔ اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی الہام ہوا بلجت اٰیاتییعنی میرے نشان ظاہر ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوں گے اور پھر الہام ہوا لواء فتح یعنی فتح کا جھنڈا۔ پھر الہام ہوا انما امرنا اذا اردنا شیئا ان نقول لہ کن فیکون۔اس پیشگوئی سے قبل از وقت پانسو آدمیوں کو خبر دی گئی تھی کہ ایسا ابتلا آنے والا ہے مگر آخر بریت ہو گی اور خدا تعالیٰ کا فضل ہو گاچنانچہ میرے رسالہ کتاب البریت میں یہ تمام الہامات درج ہیں جو قبل از وقت دوستوں کو سنائے گئے اور پھر انہیں کے لئے مفتی محمد صادق صاحب۔ حکیم فضل الدین صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب۔ حافظ عبدالعلی صاحب بی اے۔ میر ناصر نواب صاحب۔ منشی تاجدین صاحب۔ حکیم فضل الٰہی صاحب۔ خلیفہ رجب الدین صاحب۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ برادر مرزا ایوب بیگ صاحب۔ منشی تاج الدین صاحب کلرک و دیگر جماعت لاہور۔ حکیم حسام الدین صاحب