۱۸۸۳ء میں مجھ کو الہام ہوا کہ تین کو چار کرنے والا مبارک ۔ اور وہ الہام قبل از وقت بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا تھا اور اس کی نسبت تفہیم یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس دوسری بیوی سے چار۴ لڑکے مجھے دے گا اور چوتھے کا نام مبار ک ہو گا اور اس الہام کے وقت منجملہ ان چاروں کے ایک لڑکا بھی اس نکاح سے موجود نہ تھا اور اب چاروں لڑکے بفضلہ تعالیٰ موجود ہیں۔
اشتہار مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ ء میں بذریعہ الہام مشتہر کیا گیا تھا کہ احمدبیگ ہوشیار پوری اگر اپنی لڑکی کا نکاح کسی اور کے ساتھ کرے گا تو تین سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور اس سے پہلے اس کے کئی اور عزیز فوت ہوں گے چنانچہ اس لڑکی کے دوسری جگہ نکاح کے بعد ایسا ہی ہوا کہ احمد بیگ جلد میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور اس سے پہلے کئی ایک اور اس کے عزیز فوت ہوئے ہاں اس پیشگوئی کے تین حصوں سے ابھی ایک باقی ہے اور قابل انتظار ہے مگر چونکہ تینو ں حصے پیشگوئی کے ایک ہی الہام میں تھے اس لئے دو کے پورا ہونے نے پیشگوئی کی سچائی ظاہر کر دی ہے۔
۲۹؍جولائی ۱۸۹۷ ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے جو بے آواز اور بے ضرر ایک روشن ستارہ
پیشگوئی نمبر ۵۸و۵۹ پوری ہونے سے پہلے بذریعہ اشتہار شائع کی گئی تھیں اشتہار موجود ہیں اور تینوں پیشگوئیوں کے گواہ بھی بہت ہیں جیسے حامد علی منشی ظفر احمد صاحب میاں محمد خان صاحب منشی رستم علی صاحب وغیرہ وغیرہ ۔ پیشگوئی نمبر ۶۰ سے قبل از وقت قریباً پانسو آدمیوں کو اطلاع دی گئی تھی چنانچہ بعض کے نام یہ ہیں۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب۔ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب ایم اے۔