دسمبر ۱۸۹۶ ء میں پنجاب کے صدر مقام لاہور میں ایک بڑا بھاری جلسۂ مذاہب ہوا جس میں تمام مذاہب کے وکلاء اور نامی آدمی دور و نزدیک سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے جمع ہوئے کہ مذاہب مروجہ میں سے کون سا مذہب حق اور بنی آدم کے لئے سب سے زیادہ مفید اور اصل مقصد زندگی انسانی کا حاصل کرا دینے والا ہے۔ ہم نے بھی اس جلسہ میں سنانے کے لئے ایک مضمون لکھا اور اس مضمون کے متعلق ہمیں قبل از وقت یہ الہام ہوا کہ مضمون سب پر بالا رہا یعنی تمہارا یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا اور پھر یہ الہام تھا اللّٰہ اکبر خربت خیبر۔ ان اللّٰہ معک۔ ان اللّٰہ یقوم اَینما کنت ۔ چنانچہ یہ الہام بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار مورخہ ۲۱ ؍ دسمبر کے قبل جلسہ ہذا ہی دو روز کے اندر ہی دورو نزدیک شائع کیا گیا اور سب لوگوں کو اس بات سے آگاہی دی گئی کہ ہمارا ہی مضمون غالب رہے گا۔ پس ایسا ہی ہو اکہ اس جلسہ میں جس قدر مضامین پڑھے گئے تھے ان سب پر ہمارا مضمو۱ن غالب اور فائق رہا اور خود اس جلسہ میں غیر مذاہب کے وکلاء نے بھی پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر گواہیاں دیں کہ مرزا صاحب کا مضمون سب پر غالب رہا اور انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ اور پنجاب ابز رور اور دیگر اخباروں نے بڑے زور سے گواہی دی کہ ہمارا مضمون سب مضامین پر غالب رہا۔
یہ پیشگوئی قبل از وقت بذریعہ اشتہار کے شائع کی گئی تھی اور موقع پر اس کو پورا ہوتے ہوئے دیکھنے والے ہزاروں آدمی اس وقت ہر ملت و مذہب کے میدان جلسہ میں موجود تھے جنہوں نے اقرار کیا کہ یہ مضمون غالب رہا اور نیز انگریزی و اردو اخباروں نے اس امر کی تصدیق کی کہ یہی مضمون سب سے بالا رہا۔