لکھنے کے لئے طیار ہو گا وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم ہوا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوا۔ چنانچہ محمد حسن فیضی ساکن موضع بھیں تحصیل چکوال ضلع جہلم مدرس مدرسہ نعمانیہ واقعہ شاہی مسجد لاہور نے عوام میں شائع کیا کہ میں اس کتاب کا جواب لکھتا ہوں اور ایسی لاف مارنے کے بعد جب اس نے جواب کے لئے نوٹ تیار کرنے شروع کئے اور ہماری کتاب کے اندر بعض صداقتوں پر جو ہم نے لکھی تھیں لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین لکھا تو جلد ہلاک ہو گیا۔ دیکھو مجھ پر *** بھیج کر ایک ہفتہ کے اندر ہی آپ *** موت کے نیچے آگیا۔ کیا یہ نشان الٰہی نہیں۔ پیر مہر علیشاہ گولڑی نے جب اس کتاب اعجاز المسیح کا بہت عرصہ کے بعد جواب اردو میں لکھا تو اس بات کے ثابت ہو جانے سے کہ یہ اردو عبارت بھی لفظ بہ لفظ مولوی محمد حسن بھینی کی کتاب کا سرقہ ہے مہر علی شاہ کی بڑی ذلت ہوئی اور مذکورہ بالا الہام اس کے حق میں بھی پورا ہوا۔ صدہا مخالف مولویوں کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا جن میں سے عبدالحق غزنوی میدان میں نکلا اور مباہلہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت تو صرف چند آدمی ہمارے ساتھ تھے اور اب ایک لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں اور دن بدن ترقی کر رہے ہیں اور اس کے مقابل جا کر دیکھنا چاہئے کہ عبدالحق کے ساتھ کتنے ساتھی ہیں اور اس کی کیا عزت ہے کیا یہ خدا کا نشان نہیں۔ ان پیشگوئیوں کے گواہ ہزاروں ہزار آدمی ہیں ۔ مثلاً شیخ رحمت اللہ صاحب۔ منشی ظفر احمد صاحب۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔ شیخ نور احمد صاحب ایڈیٹر ریاض ہند امرتسر۔ مفتی محمد صادق صاحب ۔ حکیم فضل الدین صاحب بھیروی۔ سید حامد شاہ صاحب وغیرہ۔