جس کی اشاعت پر عبدالحق غزنوی نے کچھ اعتراض کئے تو دوبارہ کتاب ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ پر اس بات کو بڑے زور سے شائع کیا گیا کہ یہ پیشگوئی جب تک پوری ہو ضرور ہے کہ اس وقت تک عبدالحق غزنوی زندہ رہے چنانچہ چوتھا لڑکا بھی جون ۱۸۹۹ ء کو پیشگوئی کے مطابق پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد ہے۔ والحمد للّٰہ علٰی ذالک یہ پیشگوئی کس قدر خدا کے ہاتھ سے خصوصیت رکھتی ہے کہ ایک کے تولد کو ایک سن رسیدہ آدمی کے زندہ ہو نے کے ایام سے وابستہ کیا اور ایسا ہی ظہور میں آیا جیسا کہ ایک لڑکے کی پیدائش کو پھوڑوں کے ساتھ منسوب کیا اور ایسا ہی ظہور میں آیا۔
جب میری پیشگوئی کے مطابق لیکھرام کے قتل ہو جانے پر آریوں میں میری نسبت بہت شور مچا اور میرے قتل یا گرفتار ہونے کیلئے سازشیں کیں چنانچہ بعض اخبار والوں نے ان باتوں کو اپنی اخباروں میں بھی درج کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہوا ۔ سلامت بر تو اے مرد سلامت۔ چنانچہ یہ الہام بذ ریعہ اشتہار کے شائع کیا گیا اور اس وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے مجھے مخالفین کے مکرو فریب اور منصوبوں سے محفوظ رکھا۔
کتاب اعجاز المسیح کے بارے میں یہ الہام ہوا تھا کہ ’’من قام للجواب وتنمّر فسوف یریٰ انہ تندم و تذمر‘‘ یعنی جو شخص غصہ سے بھر کر اس کتاب کا جواب
پیشگوئی نمبر ۵۲ ضمیمہ انجام آتھم میں شائع ہوکر لاکھوں آدمیوں میں مشہور ہو چکی تھی۔ باقی اس صفحہ کی پیشگوئیوں کے گواہ ہماری جماعت کے اور بہت آدمی ہیں۔ مثلاً صاحبزادہ سراج الحق صاحب۔ مولوی حکیم نور الدین صاحب وغیرہ وغیرہ۔