اور ذلیل کیا ۔ جب مخالف مولوی لوگوں نے مجھے جاہل کہا تو خدا نے مجھے ایسی عربی فصیح بلیغ کتابیں لکھنے اور مقابلہ کے لئے سب کو چیلنج کرنے کی توفیق دی کہ آج تک کوئی مولوی جواب نہیں دے سکا۔ پیرمہر علی شاہ نے میری اہانت چاہی تو اول اعجاز المسیح کا جواب عربی میں نہ لکھنے پر وہ ذلیل ہوا اور پھر ایک مردہ کی تحریرات اپنے نام پر بطور سرقہ شائع کر کے ذلیل ہوا اور کیسا ذلیل ہوا کہ چوری بھی کی اور وہ بھی نجاست کی چوری۔ کیونکہ محمد حسن مُردہ کی کل تحریر غلط تھی اور مہرعلی اس کا چور تھا اس چوری سے کیا کیا ذلتیں اٹھائیں (۱) اول مردہ کے مال کا چور(۲) دوسرا چونکہ مال سب کھوٹا تھا اس لئے دوسری ذلت یہ ثابت ہوئی کہ علمی رنگ میں بصیرت کی آنکھ ایک ذرہ اس کو حاصل نہیں تھی۔ (۳) تیسری یہ ذلت کہ سیف چشتیائی میں اقرار کر چکا کہ یہ میری تصنیف ہے بعد ازاں ثابت ہو گیا کہ جھوٹا کذاب ہے یہ اس کی تصنیف نہیں بلکہ محمد حسن متوفی کی تحریر ہے جو مر کر اپنی نادانی کا نمونہ چھوڑ گیا۔ مہر علی نے خواہ نخواہ اس کی پیشانی کا سیہ داغ اپنے ماتھے پر لگا لیا۔ لگا مولوی بننے اگلی حیثیت بھی جاتی رہی یہی پیشگوئی تھی کہ انی مھین من اراد اھانتک۔ محمد حسن مردہ نے جبھی کہ میری کتاب اعجاز المسیح کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا اس کو خدا نے فوراً ہلاک کیا۔ غلام دستگیر نے اپنی کتاب فتح رحمانی کے صفحہ ۲۷ میں مجھ پر بد دعا کی اس کو خدا نے ہلاک کیا۔ مولوی محمد اسمٰعیل علیگڑھ نے مجھ پر قاضی ضیاء الدین صاحب اور یہ پیشگوئی کتاب انوار الاسلام میں درج ہو کر ہزاروں لوگوں میں شائع ہو چکی ہے۔