حبّی فی اللہ اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کا ایک شیر خوار بچہ فوت ہو گیا تھا۔ جس پر مخالفین نے طعن کیا تب میں نے مولوی صاحب موصوف کے لئے دعا کی۔ تو خواب میں دکھایا گیا کہ مولوی صاحب کی گود میں ایک لڑکا کھیلتا ہے اور اس کے بدن پر خطرناک بڑے بڑے پھوڑے ہیں پس یہ پیشگوئی اشتہار انوارالاسلام کے صفحہ ۲۶ میں درج کی گئی اور اس کے ذریعہ سے یہ الہام شائع کیا گیا کہ مولوی صاحب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کے بدن پر پھوڑے ہوں گے۔ چنانچہ اس کے پانچ سال بعد مولوی صاحب کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام عبدالحی رکھا گیا اور ساتھ ہی اس کے بدن پر خطرناک پھوڑے نکلے جن کے نشان اب تک موجود ہیں جو چاہے دیکھ لے۔ یہ کتنا بڑا معجزہ ظاہر ہوا جو پیرانہ سالی اور نومیدی کے بعد ایک لڑکے کی خبر دی گئی اور بتلایا گیا کہ اس کے پیدا ہوتے ہی بڑے بڑے پھوڑے اس کے بدن پر نمودار ہوں گے یہ اس کا نشان ہو گا۔ انی مھین من اراد اھانتک یعنی میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔ یہ ایک نہایت پُر شوکت وحی اور پیشگوئی ہے جس کا ظہور مختلف پیرایوں اور مختلف قوموں میں ہوتا رہا ہے اور جس کسی نے اس سلسلہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کی وہ خود ذلیل اور ناکام ہوا۔ مثلاً مولوی محمد حسین نے کپتان ڈگلس کے روبرو میرے برخلاف گواہی دی اور میری توہین چاہی تو اس کو کرسی کے مانگنے پر ڈپٹی کمشنر نے سخت جھڑکا ان پیشگوئیوں کے گواہ صاحبزادہ سراج الحق صاحب۔ حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ مولوی حاجی حکیم فضل الدین صاحب۔ خلیفہ رجب الدین صاحب لاہور