بد دعا کی اس کو خدا نے مار دیا۔ محی الدین لکھو کے والا نے مجھ پر بددعا کی اس کو خدا نے مار دیا۔ مہر علی نے مجھ کو چور بنانا چاہا وہ خود چور بن گیا۔ محمد حسن بھیں نے میری کتاب کا رد لکھ کر مجھے ذلیل کرنا چاہا خود ایسا ذلیل ہوا کہ خدانے اس کی سزا صرف اس کی موت تک کافی نہ سمجھی بلکہ ہر ایک غلطی میری جو اس نے نکالی وہ ان کی خود غلطی ثابت ہوئی بد قسمت مہر علی کو بھی ساتھ ہی لے ڈوبا۔ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء میں ابتداءً اور ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۷ ؁ء میں ثانیاً یعنی بذریعہ اشتہار ایک پیشگوئی شائع کی تھی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ سید احمد خان صاحب کے ۔سی۔ ایس۔ آئی کو کئی قسم کی بلائیں اور مصائب پیش آئیں گی۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا کہ اول تو اخیر عمر میں سیدصاحب کو ایک جوان بیٹے کی موت کا جانکاہ صدمہ پہنچا اور پھر قوم مسلمانان کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ جو ان کی امانت میں تھا ان کا ایک معتمد علیہ شریر ہندو خیانت سے غبن کر کے ان کو ایسا صدمہ اور ھم وغم پہنچاگیا جس سے ان کی تمام اندرونی طاقتیں اور قوتیں یک دفعہ صلب* ہو گئیں اور جلد انہوں نے راہ عدم دیکھا۔ خداوند علیم و خبیر سے خبر پا کر میں نے اپنے اشتہار ۱۲؍ مارچ ۱۸۹۷ ؁ء میں اس امر کو ظاہر کر دیا تھا کہ اب سید احمد خان صاحب کے ۔ سی۔ ایس۔ آئی کی موت کا وقت یہ پیشگوئیاں قبل از وقت بذریعہ اشتہاروں کے ہزارہا لوگوں میں شائع ہو چکی تھیں۔