یہی وجہ تھی کہ میری نصیحت اس کو بُری لگی اور اس نے جا کر میری بدگوئی کی۔ پھر اشتہار ۲۵؍جون ۱۸۹۷ ء میں یہ لکھا گیا تھا کہ کیا ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں۔ یہ تو میرے الہامات تھے جو لاکھوں انسانوں میں بذریعہ اشتہارات شائع کئے گئے تھے مگر افسوس کہ ہزارہا مسلمان اور اسلامی اڈیٹر مجھ پر جوش کے ساتھ ٹوٹ پڑے اور حسین کامی کی نسبت لکھا کہ وہ نائب خلیفۃ اللہ سلطان روم ہے اور پاک باطنی سے سراپا نور ہے اور میری نسبت لکھا کہ یہ واجب القتل ہے۔ سو واضح ہو کہ اس واقع کے دو سال بعد یہ پیشگوئیاں ظہور میں آئیں۔ اور حسین کامی کی خیانت اور غبن کا ہندوستان میں شور مچ گیا۔ چنانچہ ہم اخبار نیّر آصفی مدراس مورخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۸۹۹ ء میں سے تھوڑا سا نقل کرتے ہیں ۔ ’’حسین کامی نے بڑی بے شرمی کے ساتھ (چندہ مظلومان کریٹ جو ہند میں جمع ہوا تھا اس کے تمام) روپیہ کو بغیر ڈکار لینے کے ہضم کر لیا اور کارکن کمیٹی نے بڑی فراست اور عرقریزی سے اُگلوایا۔ یہ روپیہ ایک ہزار چھ سو کے قریب تھا جو کہ حسین کامی کی اراضیات مملوکہ کو نیلام کرا کر وصول کیا گیا اور اس غبن کے سبب حسین کامی کو موقوف کیا گیا۔ ‘‘
ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب۔ خواجہ کمال الدین صاحب۔ مولوی نورالدین صاحب۔ مولوی عبدالکریم صاحب۔ شیخ یعقوب علی صاحب وغیرہ احباب ہیں۔