میں نے اپنے اشتہار مورخہ ۲۴ ؍ مئی ۱۸۹۷ ء میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ رومی سلطنت کے ارکانِ دولت بکثرت ایسے ہیں جن کا چال و چلن سلطنت کو مضرّ ہے اور جیسا اسی اشتہار میں درج ہے۔ اس امر کی اشاعت کا یہ باعث ہوا تھا کہ ایک شخص مسمی حسین بک کامی وائس قونصل مقیم کرانچی جو سفیر روم کہلاتا تھا قادیان میں میرے پاس آیا اور وہ خیال رکھتا تھا کہ وہ اور اس کے باپ سلطنت ٹرکی کے بڑے خیر خواہ اور امین اور دیانت دار ہیں مگر جب وہ میرے پاس آیا تو میری فراست نے گواہی دی کہ یہ شخص امین اور پاک باطن نہیں اور ساتھ ہی میرے خدا نے مجھے القا کیا کہ رومی سلطنت انہی لوگوں کی شامتِ اعمال کے سبب خطرہ میں ہے سو میں اس سے بیزار ہوا لیکن اس نے خلوت میں کچھ باتیں کرنے کے لئے درخواست کی چونکہ وہ مہمان تھا اس لئے اخلاقی حقوق کی وجہ سے اس کی درخواست کو رد نہ کیا گیا پس خلوت میں اس نے دعا کے لئے درخواست کی تب اس کو وہی جواب دیا گیا جو اشتہار ۲۴؍مئی ۱۸۹۷ ء میں درج کیا گیا تھا اور اس تقریر میں دو پیشگوئیاں تھیں(۱) ایک یہ کہ تم لوگوں کا چال چلن اچھا نہیں اور دیانت اور امانت کے نیک صفات سے تم محروم ہو۔ (۲) دوم یہ کہ اگر تیری یہی حالت رہی تو تجھے اچھا پھل نہیں ملے گا اور تیرا انجام بد ہو گا۔ پھر اسی اشتہار میں یہ لکھا تھا کہ بہتر تھا کہ یہ میرے پاس نہ آتا میرے پاس سے ایسی بدگوئی سے واپس جانا اس کی سخت بد قسمتی ہے
اس پیشگوئی کے گواہ شیخ رحمت اللہ صاحب سوداگر بمبئی ہوس لاہور۔
مفتی محمد صادق صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب نعمانی۔ شیخ عبدالرحیم