تاریخ سے کوئی ایسا عذاب۱؂ نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے زیادہ اس سے کیا لکھوں۔ واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بدن کانپتا ہے اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور توہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو باایں ہمہ شوخی و خیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے عربی سے ذرا مس نہیں بلکہ دقیق اردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں۔ اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کے لئے دعا کی جس کا یہ جواب ملا اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کے لئے بھی نشان ہے کاش وہ حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے۔ اب میں اسی خدائے عزّوجلّ کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا۔ والحمد للّٰہ والصّلٰوۃ والسلام علٰی رسولہ محمد المصطفٰی افضل الرسل وخیرالورٰی سیدنا وسید کلّ مافی الارض والسّما۔ خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۰ فروری ۱۸۹۳ ؁ء لیکھرام والی پیشگوئی قبل از وقت بہت سی کتابوں اور اشتہاروں میں درج ہو چکی تھی جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے اور اس کے گواہ ساری برٹش انڈیا ہے۔