کیا گیا تھا اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضاوقدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں سو اس اشتہار کے بعد اندر من نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ‘ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ عجل جسد لہٗ خوار۔ لہٗ نصب و عذاب یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ ؁ء روز دو شنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ۲۰ ؍ فروری ۱۸۹۳ ؁ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ ۶برس کے عرصہ میں آج کی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر مڈیکل کالج لاہور۔ منشی نواب خان صاحب تحصیلدار گوجرات۔ چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر انبالہ۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن رڑکی۔