پھر اس پیشگوئی کی وضاحت صرف اس حد تک نہیں کہ تیغ برّان کے ذریعہ سے ایک ہیبت ناک موت کی خبر دی گئی ہو بلکہ کتاب کرامات الصادقین کے ایک عربی شعر میں جو واقعہ قتل پنڈت لیکھرام سے چار سال پہلے تمام قوموں میں شائع ہو چکا تھا اس کی موت کا دن اور تاریخ بھی بتلائی گئی تھی چنانچہ اس شعر پر ہندو اخبار نے لیکھرام کے قتل کے وقت بڑا شور مچایا تھا اور وہ شعر یہ ہے :۔
وبَشّرنی ربّی و قال مبشرا
ستعرف یوم العید والعید اقرب
یعنی میرے خدا نے ایک پیشگوئی کے پورا ہونے کی خبر دی ہے اور خوشخبری دے کر کہا کہ تو عیدکے دن کو پہچانے گا جبکہ نشان ظاہر ہو گا۔ اور عید کا دن نشان کے دن سے بہت قریب اور ساتھ ملا ہوا ہو گا۔ غرض یہ عظیم الشان پیشگوئی اس قدر قوت اور عام شہرت کے ساتھ پھیلنے کے بعد ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ ء کو اس طرح پوری ہوئی کہ ایک شخصؔ نے جس کا آج تک پتہ نہیں لگا کہ کون تھا شام کے وقت لاہور کے شہر میں شنبہ کے دن جو عید سے دوسرا دن تھا لیکھرام کے پیٹ میں ایک کاری چھری مار کر دن دہاڑے ایسا غائب ہوا کہ آج تکپھر اس کا پتہ نہ لگا۔ حالانکہ لیکھرام کے ساتھ کتنی مدت سے رہتا تھا اور اس قتل کی خبر کے ساتھ سب ہندو ۔ مسلمان ۔ عیسائی پر ایک رعب اور ہیبت طاری ہوئی اور آریوں نے بڑا شور مچایا اور سر کردہ مسلمانوں اور اسلامی انجمنوں کی خانہ تلاشیاں
چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر انبالہ۔ منشی عبدالعزیز صاحب محافظ دفتر دہلی۔
سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس۔ زین الدین محمد ابراہیم صاحب انجنئیر بمبئی۔