رو سے دعاؤں کے قبول ہونے سے منکر تھا اس طرف توجہ دلائی اور اس کے سامنے اپنی دعا سے لیکھرام کے مارے جانے کی نظیر پیش کی حالانکہ لیکھرام ابھی زندہ پھرتا تھا اور میں نے سید احمد خان کو مخاطب کر کے کتاب برکات الدعا میں لکھا کہ لیکھرام کی موت کے لئے میں نے دعا کی ہے اور وہ دعا قبول ہو گئی سو آپ کے لئے نمونہ کے طور پر یہ دعائے مستجاب کافی ہے مگر اس تحریر پر ہنسی کی گئی کیونکہ لیکھرام ابھی زندہ اور ہر طرح سے تندرست اور توہین اسلام میں سخت سرگرم تھا اور میں نے اس مراد سے کہ لوگ پیشگوئی کو یاد کرلیں اشعار میں سید احمد خان کو مخاطب کیا اور وہ اشعار یہ ہیں جو برکات الدعا میں درج ہیں۔ روئے دلبر از طلبگاران نمیدارد حجاب میدر خشد د رخور و مے تابد اندر ماہتاب لیکن این روئے حسین از غافلان ماند نہان عاشقے باید کہ بردارند از بہرش نقاب دامن پاکش ز نخوت ہا نمے آید بدست ہیچ راہے نیست غیر از عجزو درد و اضطراب بس خطرناک است راہ کوچۂ یار قدیم جان سلامت بایدت از خود روی ہا سر بتاب تا کلامش عقل و فہم ناسزایان کم رسد ہر کہ از خود گم شود او یا بد آن راہ صواب مشکل قرآن نہ از ابنائے دُنیا حل شود ذوق آن میداند آن مستی کہ نو شدآن شراب اےؔ کہ آگاہی ندادندت ز انوار درون در حقِ ما ہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب از سرِ وعظ و نصیحت ایں سخن ہا گفتہ ایم تا مگر زیں مرہمے بہ گردد آن زخمِ خراب از دعا کن چارۂ آزار انکارِ دعا چُوں علاج مَے ز مَے وقتِ خمار و التہاب ایکہ گوئی گر دعاہا را اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب بنمایم ترا چُوں آفتاب ہاں مکن انکار زیں اسرار قُدرتہائے حق قصہ کوتاہ کن بہ بین از ما دعائے مستجاب شیخ محمد خان صاحب وزیر آباد۔ ڈاکٹر میرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر میڈیکل کالج لاہور۔ منشی نواب خان صاحب تحصلیدار گوجرات۔ میاں معراج الدین صاحب لاہور