کرائیں اور ہر جگہ اس مقتول کی ہمدردی کے لئے بڑے بڑے جلسے کئے اور تجویزیں قرار پائیں کہ سال بسال اس ماتم کا ایک دن مقرر کیا جائے تا یہ واقعہ ہمارے دلوں سے بھولنے نہ پائے اور نظموں اور نثروں میں مرثیے اور بین لکھے اور ملک میں شائع کئے اور خدا نے یہ سب کچھ اس لئے ہونے دیا تا پیشگوئی کی عظمت دلوں میں پھیل جائے کیونکہ جس قدر مقتول کو عظمت دی جاوے در حقیقت وہ پیشگوئی کی عظمت ہے وجہ یہ کہ اگر مقتول ایک ذلیل اور حقیر آدمی ہو تو پیشگوئی کو بہت توجہ سے ذکر نہیں کیا جاتا اور اس طرح پر جلد تر وہ بھول جاتی ہے پس خدا نے چاہا کہ لیکھرام کو اس کی قوم بہت کچھ عظمت دیوے تا اس عظمت سے پیشگوئی کی عظمت ثابت ہو۔ اور نیز آریوں کے دل میں ڈال دیا کہ انہوں نے ہمیشہ کے لئے اس کی یاد گاریں قائم کیں۔ غرض یہ پیشگوئی ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے اور شیخ نور احمد صاحب مالک مطبع ریاض ہند امرت سر۔ میاں عبدالخالق صاحب امرتسر۔ میاں قطب الدین صاحب مس گر امرتسر۔ ڈاکٹر عباداللہ صاحب امرتسر۔ * خدا کی قدرت کہ میرے نشانوں میں سے بہت سا حصہ آریوں نے ہی لیا ہے ۔ لالہ شرمپت آریہ قادیان کو جو قادیان میں زندہ موجود ہے میں نے خبر دی کہ میری دعا سے اس کے بھائی بسمبر داس کی نصف قید تخفیف ہو گی اور میں نے اسے کہا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ چیف کورٹ سے مثل اپیل ضلع میں آئے گی اور نصف قید معاف کی جائے گی مگر اس کے رفیق کی قید کا ایک دن بھی معاف نہیں ہو گا اور نیز اس کو پنڈت دیا نند سُرستی کی وفات کی قبل از وقت خبر دی اور لالہ ملاوامل ساکن قادیان مدقوق ہو گیا تھا اس کی نسبت میں نے دعا کر کے شفا کی خبر دی ۔ چنانچہ وہ اس مہلک مرض سے شفا پا گیا ۔ اے آریو! ان دونوں اپنے بھائیوں آریوں کو قسم دے کر پوچھو کہ کیا یہ سچ ہے یا نہیں۔ اے سخت دل قوم تم نے یہ تین نشان دیکھ لئے اور خدا کی حجت تم پر پوری ہو گئی اب اسلام کی تکذیب کرنا اور توہین کرنا اور اسلام میں داخل نہ ہونا سخت بے ایمانی اور *** زندگی ہے۔منہ