نشان کے ساتھ اس کا وقوعہ ہو گا اور دلوں کو ہلا دے گا اور اگر اس کی طرف سے نہیں تو پھر میری ذلت ظاہرہو گی اور اگر میں اس وقت رکیک تاویلیں کروں گا تو یہ اور بھی ذلت کا موجب ہو گا وہ ہستی قدیم اور پاک و قدوس جو تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ کاذب کو کبھی عز ت نہیں دیتا۔ یہ بالکل غلط بات ہے کہ لیکھرام سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت ہے مجھ کو ذاتی طور پر کسی سے بھی عداوت نہیں بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا توہین سے یاد کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی دنیا میں عزت ظاہر کرے۔ والسّلام علٰی من اتبع الہدٰی۔ پھر اسی کتاب برکات الدعاء کے حاشیہ پر وہ کشف درج ہے جو ۲؍ اپریل ۹۳ء کو میں نے دیکھا کہ ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرے پر سے خون ٹپکتا ہے گویا وہ انسان نہیں ملایک شداد غلاظ سے ہے وہ میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا جو یاد نہیں رہا اور کہا کہ وہ کہاں ہے۔ تب میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص لیکھرام اور اس دوسرے کی سزادہی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دیکھو ٹائیٹل پیج برکات الدعاء مطبوعہ ؔ اپریل ۱۸۹۳ ؁ء اس کے بعد ۶؍ مارچ ۱۸۹۷ ؁ء کو لیکھرام بذریعہ قتل فوت ہو گیا اور اس وقت کہ جب یقینی اور قطعی طور پر مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ میری دعا کے قبول ہونے پر آسمان پر یہ قرار پا چکا ہے کہ لیکھرام ایک درد ناک عذاب سے قتل کیا جائے گا میں نے اسی کتاب برکات الدعا میں سید احمد خان کو جو اپنے باطل عقیدہ کے میاں نبی بخش صاحب رفو گر امرت سر۔ ڈاکٹر قاضی کرم الٰہی صاحب امرت سر۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن رڑکی۔ سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹ