جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے خارق عادت پیشگوئیاں مجھے بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں کے عرصہ تک اس شخص پر ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی ہیں ایک ایسا عذاب نازل ہو گا جو معمولی تکالیف سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو گا اور تاکیدًا اس اشتہار میں لکھا گیا تھا کہ اگر میں ا س پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہرایک سزا کے بھگتنے کے لئے طیار ہوں اور میں اس عذاب پر راضی ہوں گا کہ میرے گلے میں رسہ ڈال کر مجھے پھانسی دیا جاوے اور اس پیشگوئی کے ساتھ آتھم کی پیشگوئی کی طرح کوئی شرط نہ تھی بلکہ قطعی اور اٹل طور پر در صورت تخلف سخت سے سخت سزا اپنے لئے قبول کر کے پیشگوئی شائع کی گئی تھی اور اسی اشتہار مورخہ ۲۰؍ فروری ۱۸۹۳ ؁ء کے سرے پر ایک نظم بھی لکھی گئی تھی جو لیکھرام کی صورت موت پر بلند آواز سے دلالت کرتی ہے اور اسی نظم میں اس مقام پر جہاں بطور پیشگوئی تیغ برّاں کا فقرہ لکھا گیا ہے ایک ہاتھ بنایا گیا تھا جو لیکھرام کی طرف اشارہ کرتا تھا اور ظاہر کرتا تھا کہ یہ شخص قتل کی موت سے مرے گا ۔ اب ہم اس نظم کو جو ہماری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں معہ نشان ہاتھ نو برس سے شائع ہو چکی ہے اس جگہ دوبارہ لفظ بلفظ نقل کر دیتے ہیں اور وہ اس طرح پر ہے۔ عجب نوریست درجانِ محمدؐ عجب لعلیست درکانِ محمدؐ زظلمت ہا دلے آنگہ شود صاف کہ گردد از محبَّان محمدؐ عجب دارم دلِ آن ناکسان را کہ رُو تا بنداز خوانِ محمدؐ پیشگوئی کی خبر نہ پہنچی ہو ۔ اور وہ نام یہ ہیں ۔ خان بہادر سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر انہار ضلع شاہ پور۔ حکیم علاؤ الدین صاحب ساکن شیخوپور تحصیل بھیرہ۔