جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں دن ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ویسا ہی یہ بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا اور پھر آگ میں جلایا جائے گا۔ غرض یہ اس کے قتل کی طرف اشارہ تھا یعنی یہ کہ وہ گوسالہ سامری کی طرح نہایت سختی سے ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ لیکھرام نہایت سختی سے کاٹا گیا اور اس کے کاٹے جانے کا دن شنبہ تھا اور شنبہ سے پہلے مسلمانوں کی عید تھی اور گوسالہ سامری کے کاٹے جانے کی بھی یہی تاریخ تھی یعنی شنبہ کا دن تھا اور یہودیو ں کی عید بھی تھی اور گوسالہ سامری ٹکڑے کرنے کے بعد جلایا گیا تھا ۔ ایسا ہی سارا معاملہ لیکھرام کے ساتھ ہوا کیونکہ اول قاتل نے اس کی انتڑیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیاپھر ڈاکٹر نے اس کے زخم کو چھری کے ساتھ زیادہ کھولا ۔ پھر لاش پر ڈاکٹری امتحان کی چھری چلی پھر وہ آگ میں جلایا گیا اور بالآخر گوسالہ سامری کی طرح دریا میں ڈالاگیا۔ اور جیسا کہ گوسالہ سامری کے بعد قوم اسرائیل میں سخت طاعون پڑی تھی کہ انہوں نے اس بت کو خدا کے مقابل عظمت دی ایسا ہی جب قوم نے لیکھرام کو بہت عظمت دی تو پھر بعد اس کے طاعون پڑی کیونکہ انہوں نے خدائے ذوالجلال کی پیشگوئی کو تحقیر کی نظر سے دیکھا اور اس شخص کو جس کا نام خدا نے گوسالہ سامری رکھا تھا بہت بزرگی کے ساتھ یاد کیا اور اشتہار میں اس الہام کے بعد یہ لکھا گیا تھا کہ آج ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ ؁ء کو جب لیکھرام کے عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج سے چھ برس اس جگہ بطور نمونہ چند ایک کے نام درج کرتے ہیں ورنہ اصل میں ہندوؤں مسلمانوں یا عیسائیوں کا اور دیگر مذاہب کا کوئی گھر ہو گا جس میں اس