جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں اپنی قوم میں اس پیشگوئی کی قبل از وقوع شہرت دے دی اور جس قدر اس پیشگوئی کے وقوع کی شہرت ہوئی اس کے بیان کی اس سے کم شہرت نہ تھی البتہ وقوع کے وقت آریوں میں سخت ماتم ہوا اور ماتم کے ذریعہ سے انہوں نے اور بھی شہرت دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برٹش انڈیا کے تمام ہندو مسلمان اور عیسائی بلکہ ہماری گورنمنٹ خود اس نشان کی گواہ بن گئی۔ اللہ اللہ یہ کیسا ہیبت ناک اور وہشت ناک نشان ظاہر ہوا جس نے آنکھوں والوں کو خدا کا چہرہ دکھا دیا۔ واضح ہو کہ لیکھرام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن اور بد زبان تھا وہ آریوں کا ایک بڑا ایڈوکیٹ اور لیکچرار تھا اور جا بجا تقریریں کرتا پھرتا تھا اور کئی ایک کتابیں بھی اسلام کے برخلاف لکھی تھیں لیکن نرا گو سالہ تھا فہم اور علم اس کے نزدیک نہیں آیا تھا اور اس کے پاس بجز بدزبانی اور فحش گوئی اور نہایت قابل شرم گالیوں کے اور کچھ نہ تھا اور یہاں قادیان میں بھی مباحثہ کے لئے آیا اور پھر نشان کا طلب گار ہوا۔ اور جب اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ ؁ء میں یہ لکھا گیا کہ لیکھرام پشاوری اور بعض دیگر آریوں کے قضاء قدر کے متعلق کچھ تحریر ہو گا۔ اگر کسی صاحب پر ایسی پیشگوئی شاق گذرے تو وہ اطلاع دیں تا اس کی نسبت کوئی پیشگوئی شائع نہ کی جائے تو اس پر پنڈت لیکھرام کا کارڈ پہنچا کہ میں اجازت دیتا ہوں کہ میری موت کی نسبت پیشگوئی کی جائے مگر معیاد مقرر ہونی چاہئے ۔ پھر رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۱۱ ہجری میں یہ پیشگوئی درج شائع کیا تھا اور کئی اخباروں میں یہ پیشگوئی بھی شائع ہوئی تھی اور اس کے پورا ہونے پر کئی سو آدمیوں نے جو ہماری جماعت میں سے نہ تھے اور جن میں سے بہت سے ہندو