جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جودنیا پر ظاہر ہوئیں
جب عیسائیوں نے آتھم کے نشان کو جو صاف اور روشن تھا اپنے ظلم اور افترا سے پوشیدہ کرنا چاہا اور نادان مسلمان بھی ان کے ساتھ مل گئے اور خدا کے بزرگ نشان کو قبول نہ کیا بلکہ بڑا فتنہ برپا کیا اور اس بات کو کسی نے نہ سوچا کہ پیشگوئی کا اصل مدعا تو یہ تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں ہی مرے گا اور وہ وقوع میں آ گیا اور نہ یہ سوچا کہ آتھم نے تو ایک بھری مجلس میں دجال کہنے سے رجوع کر لیا جو اس پیشگوئی کا اصل موجب تھا تو پھر وہ شرط سے کیوں فائدہ نہ اٹھاتا۔ غرض جب خدا کی پیشگوئی کو لوگوں نے مشتبہ کرنا چاہا تو خداتعالیٰ نے گواہی کے طور پر ایک دوسری پیشگوئی کو ظاہر فرمایا
یعنی لیکھرام کی نسبت پیشگوئی جو بہت قوت اور شوکت سے جلالی رنگ میں ظاہر ہوئی۔ پس واضح ہو کہ منجملہ ہیبت ناک اور عظیم الشان نشانوں کے پنڈت لیکھرام کی موت کا نشان ہے جس کی بنیاد پیشگوئی میری کتابیں برکات الدعاء اور کرامات الصادقین اور آئینہ کمالات اسلام ہیں جن میں قبل از وقوع خبر دی گئی کہ لیکھرام قتل کے ذریعہ سے چھ سال کے اندرا س دنیا سے کوچ کرے گا اور وہ عید سے دوسرا دن ہو گا تا یہ صورت اس بات پر دلالت کرے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر میں عید ہو گی اس سے دوسرے دن ہندوؤں کے گھر میں ماتم ہو گا اور یہ پیشگوئی نہ صرف میری کتابوں میں درج ہو گئی بلکہ لیکھرام نے خود اپنی کتاب میں نقل کر کے
پیشگوئی نمبر ۴۳ کے گواہ لاکھوں ہیں کیونکہ بذریعہ اشتہارات و کتب جن کا حوالہ متن میں آیا ہے۔ اس کو کثرت سے شائع کیا گیا تھا اور لیکھرام نے خود بھی اس کو اپنی کتاب میں