جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
کے گزرنے کے پیچھے اپنے رجوع پر بھی قائم نہ رہ سکا اور اس کے دل میں وہ خوف نہ رہا جو پندرہ مہینہ کی میعاد کے اندر تھا اور جھوٹ بولا اور کہا کہ میں پیشگوئی سے ہرگز نہیں ڈرا اور جب چار ہزار روپیہ نقد دینے کے وعدہ سے قسم کے لئے بلایا گیا تو قسم بھی نہ کھائی۔ لہٰذا خدا نے انکار اور اخفاء شہادت اور بے باکی کے بعد ہمارے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر یعنی پندرہ۱۵ مہینہ کے اندر ہی مار دیا اور ۲۷ ؍جولائی ۱۸۹۶ ء کو بمقام فیروز پور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت میں جو پندرہ مہینہ پیشگوئی کے لئے مقرر ہوئے تھے آخر آتھم اس دائرہ کے اندر ہی مرا اور پندرہ مہینہ کی میعاد بہر صورت قائم رہی۔ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے جمالی رنگ میں تھی یعنی رفق اور نرمی کے لباس میں ۔ چونکہ آتھم نے اپنی روش میں نرمی اختیار کی اورا س سخت گندہ زبانی کو اختیار نہ کیا جس کو لیکھرام نے اختیار کیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی اس سے نرمی کا ہی برتاؤ کیا اور اس کو مہلت دینے اور آخر مارنے سے جمالی رنگ کا نشان دکھلایا لیکن لیکھرام نہایت دریدہ دہن اور بد زبان تھا اس لئے خدا نے جلالی رنگ کا نشان اس میں دکھلا دیا اور جب نادانوں اور اندھوں نے اس جمالی نشان کا قدر نہ کیا کہ جو بذریعہ آتھم ظاہر ہوا تو خدا نے اس کے بعد لیکھرام کی موت کا نشان جو ہیبت ناک اور جلالی تھا ظاہر کر دیا۔
مفتی محمد صادق صاحب۔ صاحبزادہ سراج الحق صاحب ۔ قاضی ضیاء الدین صاحب۔ مولوی عبداللہ سنوری صاحب ۔ شیخ چراغ علی صاحب وغیرہ اس پیشگوئی کے گواہ ہیں۔