جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
کی کہ اپنے پہلے طریق کو جو ہمیشہ مسلمانوں سے مذہبی بحث کرتا تھا اور اسلام کے ردّ میں کتابیں لکھتا تھا بالکل چھوڑ دیا اور ہر یک کلمہ توہین اور استخفاف سے اپنا منہ بند کر لیا بلکہ اس کے منہ پر مہر لگ گئی اور خاموش اور غمگین رہنے لگا اور اس کا غم اس درجہ تک پہنچ گیا کہ آخر وہ زندگی سے نومید ہو کر بے قراری کے ساتھ اپنے عزیزوں کی آخری ملاقات کے لئے شہر بشہر دیوانہ پن کی حالت میں پھرتا رہا اور اسی مسافرانہ حالت میں انجام کار فیروز پور میں فوت ہو گیا۔ اور یہ سوال کہ باوجود اس کے کہ اس نے اپنی بے باکی کے لفظ سے عام مجلس میں رجوع کر لیا اور بار بار عجز و نیاز سے دجال کہنے کے کلمہ سے بیزاری ظاہر کی تو پھر کیوں وہ پکڑا گیا اور کیوں جلد انہیں دنوں میں فوت ہو گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ مباہلہ کا نشانہ ہو چکا تھا لہٰذا ان پیشگوئیوں کے موافق جو کتاب انجام آتھم کے پہلے صفحہ میں موجود ہیں جو آتھم کی زندگی میں ہی پندرہ مہینے گذرنے کے بعد کی گئی تھیں اس کا مرنا ضروری تھا کیونکہ ان پیشگوئیوں میں صاف لفظوں میں لکھا گیا تھا کہ آتھم انکار قسم اور اخفاء شہادت اور
اعادہ بے باکی کے بعد جلد تر فوت ہو جائے گا۔ پس جب کہ اس نے ارتکاب ان جرائم کا کیا تو ہمارے آخری اشتہار سے سات مہینے بعد فوت ہو گیا اور نیز اس لئے اس کا مرنا بہرحال ضروری تھا کہ پیشگوئی کے مضمون میں یہ بات داخل تھی کہ جو جھوٹا ہے وہ صادق سے پہلے مرے گا لہٰذا رجوع کا فائدہ اس نے صرف اس قدر اٹھایا کہ پندرہ میں نہ مرا لیکن بعد میں جب کہ وہ پندرہ مہینہ
اور شیخ نور احمد صاحب اڈیٹر اخبار ریاض ہند امرتسر ومالک مطبع ریاض ہند امرتسر اور میاں نبی بخش صاحب تاجر پشمینہ امرت سر اور میاں قطب الدین مس گر امرت سر