جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
بلا توقف اپنی زبان مُنہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر دھر لئے اور ہاتھوں کو معہ سر کے ہلانا شروع کیا جیسا کہ ایک ملزم خائف ایک الزام سے سخت انکار کر کے توبہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اور بار بار لرزتے ہوئے زبان سے کہتا تھا کہ توبہ توبہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز ہرگزدجال نہیں کہا اور کانپ رہا تھا اس نظارہ کو نہ صرف مسلمانوں نے دیکھا بلکہ ایک جماعت کثیر عیسائیوں کی بھی اس وقت موجود تھی جو اس عجز و نیاز کوبھی دیکھ رہی تھی۔ اس انکار سے اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا تھا کہ میری اس عبارت کے جو میں نے اندرونہ بائیبل میں لکھی ہے اور معنی ہیں بہر حال اس نے اس مجلس میں قریباً ستر آدمی کے روبرو دجّال کہنے کے کلمہ سے رجوع کر لیا اور یہی وہ کلمہ تھا جو اصل موجب اس پیشگوئی کا تھا اس لئے وہ پندرہ مہینہ کے اندر مرنے سے بچ رہا کیونکہ جس گستاخی کے کلمہ پر پیشگوئی کا مدار تھا وہ کلمہ اس نے چھوڑ دیا اور ممکن نہ تھا کہ خدا اپنی شرط کو یاد نہ
کرے اور اگرچہ رجوع کی شرط سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسی قدرکافی تھا مگر آتھم نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنے قول دجال کہنے سے باز آیا بلکہ اسی دن سے جو اس نے پیشگوئی کو سنا اسلام پر حملہ کرنا اس نے بکلی چھوڑ دیا اور پیشگوئی کا خوف اس کے دل پر روز بروز بڑھتا گیا یہاں تک کہ وہ مارے ڈر کے سراسیمہ ہو گیا اور اس کا آرام اور قرار جاتا رہا اور یہاں تک اس نے اپنی حالت میں تبدیلی
میاں محمد چٹو صاحب لاہور اور منشی تاج الدین صاحب لاہور اور مولوی الہ دیا صاحب از لودیانہ اور منشی محمد اروڑا صاحب از کپورتھلہ۔ اور میاں محمد خان صاحب از کپورتھلہ