جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
شیخ رحمت اللہ صاحب اور اخویم منشی تاج الدین صاحب اکونٹنٹ دفتر ریلوے لاہور اور اخویم عبدالعزیز خان صاحب کلارک دفتر اگزیمینر ریلوے لاہور اور اخویم خلیفہ نوردین صاحب وغیرہ احباب موجود تھے۔ میں نے ڈپٹی عبداللہ آتھم کو کہا کہ آج یہ مباحثہ منقولی اور معقولی رنگ میں تو ختم ہو گیا مگر ایک اور رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجّال کے نام سے پکارا ہے اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور سچا رسول جانتا ہوں اور دین اسلام کو منجانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔ پس یہ وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا ہے اور ناحق رسول صادق کو کاذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن
سے پندرہ مہینہ تک اس شخص کی زندگی میں ہی جو حق پر ہے ہاویہ میں گرے گا ۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بیباکی اور بد زبانی نہ چھوڑے۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ صرف کسی مذہب کا انکار کرنا دنیا میں مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا بلکہ بے باکی اور شوخی اور بد زبانی مستوجب سزا ٹھہراتی ہے ۔ غرض جب آتھم کو ایسی مجلس میں جس میں ستر سے زیادہ آدمی ہوں گے یہ پیشگوئی سنائی گئی تو اس کا رنگ فق اور چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کانپنے لگے تب اس نے
اور اخویم خلیفہ نور الدین صاحب تاجر جموں اور اخویم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ اور اخویم خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر پشاور اور خلیفہ رجب الدین صاحب لاہور