جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
عیسائیوں کی طرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم انتخاب کیا گیا اور مسلمانوں کی طرف سے میں پیش ہوا اور عبداللہ آتھم نے مباحثہ سے کچھ دن پہلے اپنی کتاب اندرونہ بائیبل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دجال کا لفظ لکھا تھا جیسا کہ کتاب جنگ مقدس کے آخری صفحہ میں اس کا ذکر ہے وہ شرارت اور شوخی اس کی مجھے تمام ایام بحث میں یاد رہی اور میں دل وجان سے چاہتا تھا کہ اس کی سرزنش کی نسبت کوئی پیشگوئی خدا تعالیٰ سے پاؤں ۔ چنانچہ میں نے آتھم سے ایک دستخطی تحریر بھی اسی غرض سے لے لی تھی تا وہ پیشگوئی کے وقت عام عیسائیوں کی طرح میری آزار دہی کے لئے کسی عدالت کی طرف نہ دوڑے۔ سو میں پندرہ۱۵ دن تک بحث میں مشغول رہا اور پوشیدہ طور پر آتھم کی سرزنش کے لئے دعا مانگتا رہا۔ جب بحث کے دن ختم ہو گئے تو میں نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پائی کہ اگر آتھم اس شوخی اور گستاخی سے توبہ اور رجوع نہیں کرے گا جو اس نے دجال کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اپنی کتاب میں لکھا تو وہ ہاویہ میں پندرہ مہینہ کے اندر گرایا جائے گا۔ سویہ امر الٰہی پا کر بحث کے خاتمہ کے دن ایک جماعت کثیر کے روبرو جس میں عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر مارٹن کلارک اور تیس کے قریب اور عیسائی تھے اور میری جماعت کے لوگ بھی تیس یا چالیس کے قریب تھے جن میں سے اخویم مولوی حکیم نوردین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم اور اخویم
ستر۷۰ آدمیوں کے روبرو رجوع کیا ۔ جن میں اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب اور اخویم مولوی عبدالکریم صاحب اور اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب مالک بمبئی ہوس لاہور