جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں یعنی ھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطبًا جنیّا۔یہ حضرت مریم کو اس وقت وحی ہوئی تھی کہ جب ان کا لڑکا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوا تھا اور وہ کمزور ہوئی تھیں اور خدا تعالیٰ نے اسی کتاب براہین احمدیہ میں میرا نام بھی مریم رکھا اور مریم صدیقہ کی طرح مجھے بھی حکم دیا کہ وکن من الصالحین الصدّیقین۔ دیکھو ص۲۴۲ براہین احمدیہ۔ پس یہ میری وحی یعنی ھزّ الیک اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ صدیقیت کا جو حمل تھا اس سے بچہ پیدا ہوا جس کا نام عیسیٰ رکھا گیا اور جب تک وہ کمزور رہا صفات مریمیہ اس کی پرورش کرتی رہیں اور جب وہ اپنی طاقت میں آیا تو اس کو پکارا گیا یَاعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ دیکھو صفحہ ۵۵۶ براہین احمدیہ۔ یہ وہی وعدہ تھا جو سورہ تحریم میں کیا گیا اور ضرور تھا کہ اس وعدہ کے موافق اس امت میں سے کسی کا نام مریم ہوتا اور پھر اس طرح پر ترقی کر کے اس سے عیسیٰ پیدا ہوتا اور وہ ابن مریم کہلاتا سو وہ میں ہوں۔ وحی ھزّی الیکمریم کو بھی ہوئی اور مجھے بھی مگر باہم فرق یہ ہے کہ اس وقت مریم ضعف بدنی میں مبتلا تھی اور میں ضعف مالی میں مبتلا تھا۔ منجملہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نشانوں کے وہ نشان ہے جو اس خدائے قادر نے ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کی نسبت ظاہر فرمایا اور اس کے لئے یہ تقریب پیش آئی کہ مئی اور جون ۱۸۹۳ ؁ء میں ڈاکٹر مارٹن کلارک کی تحریک سے اسلام اور عیسائیت میں ایک مباحثہ قرار پایا اس مباحثہ میں پیشگوئی نمبر ۴۲ یعنی عبداللہ آتھم کے متعلق جو میں نے پیشگوئی کی تھی اس کا ثبوت اس رسالہ مباحثہ میں موجود ہے جس کا نام جنگ مقدس ہے اور اسی سے ثابت ہے کہ یہ پیشگوئی کیوں کی گئی یعنی آتھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا اور پھر پیشگوئی کو سن کر قریباً