جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں محبت مستعد دلوں میں ڈال دی تا کہ میری آنکھوں کے سامنے تو پرورش پاوے عنقریب تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کی طرف میں وحی بھیجوں گا وہ ہر ایک دور کی راہ سے تیرے پاس آئیں گے اور انواع اقسام کے تحائف از قسم نقد و جنس ہر ایک راہ سے تیرے پاس لائیں گے۔ سو اس کے بعد یہ پیشگوئی ایک تخم کی طرح بڑھتی گئی یہاں تک کہ ان دنوں میں جو ۱۳۲۰ ہجری ہے بمقابل اس زمانہ کے کہ جب دو تین آدمی مجھ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ بھی بعد میں اب ایک لاکھ سے کچھ *زیادہ اس جماعت کا عدد پہنچ گیا ہے اور ہر ایک طرف سے جب کوئی انسان آتا ہے یا کسی نئے شخص کی طرف سے کوئی تحفہ آتا ہے تو وہ ایک نشان ظاہر ہوتا ہے اور چونکہ اس جگہ آ کر بیعت کرنے والے پچاس ہزار سے کم نہیں ہوں گے اور جو روپیہ اور تحائف متفرق وقتوں میں آئے وہ دس۱۰ لاکھ سے کم نہیں ہوں گے اس لئے یہ بات بالکل صحیح اور سچ ہے کہ علاوہ ان نشانوں کے جو اس نقشہ میں لکھے گئے ہیں کم سے کم دس۱۰ لاکھ اور ایسے نشان ہیں جو الہام یاتون من کل فج عمیقاور یاتیک من کل فج عمیق سے ثابت ہوتے ہیں اور ایک سلسلہ ان نشانوں کا وہ ہے جو الہام اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھانَتَکَکے ذریعہ سے ظہور میں آئے ہیں۔ اس جگہ ایک اور نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ وحی * حاشیہ۔ میں خیال کرتا تھا کہ احاطہ بمبئی میں مجھ سے بیعت کرنے والے چھ سات سے زیادہ نہیں ۔ اب سرکاری چٹھی سے معلوم ہوا کہ احاطہ مذکورہ میں بیعت کرنے والے ۱۱۰۸۷۔ آدمی ہیں سرکاری تحریر ہے میمو نمبر ۱۹۱۴۳ مورخہ ۲؍ ستمبر ۱۹۰۲ء ازپونا بجواب چٹھی مورخہ ۱۳؍اگست ۱۹۰۲ء مرقومہ (مفتی محمد صادق صاحب) اسسٹنٹ سکرٹری انجمن اشاعت اسلام ۔ التماس ہے کہ فرقہ احمدیہ کی تعداد پچھلی مردم شماری میں ۱۱۰۸۷ تھی۔ دستخط ہیڈ کمپائلر ۔ بجائے پروونشل سپرنٹنڈنٹ مردم شماری۔