جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائیں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں جب مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اطلاع ملی کہ بالفعل تمہاری کچھ مدد نہیں کی جاوے گی تو ایک مدت تک کوئی بھی میری طرف متوجہ نہ ہوا اور لوگ لاپروائی سے پیش آئے اور کتاب کا چھپنا معرض التوا میں رہا۔ تب ایک دن قریب مغرب کے پھر دعا کے لئے دل میں جوش پیدا ہوا تو خدائے عزّوجلّ کی طرف سے یہ وحی میری زبان پر جاری ہوئی۔ ھُزِّ اِلَیْکَ بجذع النخلۃ تسَاقط عَلَیْک رطبًا جنیًا۔ دیکھو براہین صفحہ ۲۲۶۔ یعنی کھجور کے تنہ کو ہلا تیرے پر تازہ بتازہ کھجوریں گریں گی۔ تب میں نے چند مشہور لوگوں کی طرف خط لکھے تواس قدر روپیہ آ گیا کہ میں پہلا اور دوسرا حصہ براہین احمدیہ کا اس روپیہ کے ذریعہ سے چھاپ سکا۔ مگر ابھی میری حالت معمولی تھی اور صرف ایک پرانے خاندان کی کسی قدر شہرت بعض دلوں کو متوجہ کرنے کے لئے خداتعالیٰ کے اذن اور حکم سے محرک ہو گئی تھی۔ پھر بعد اس کے خداتعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ ایک ذاتی وجاہت کے لحاظ سے مجھے دنیا میں قبولیت بخشے تب اس کے بعد یہ تمام الہام ہوئے جو کہ براہین احمدیہ میں درج ہیںیعنی القیت علیک محبّۃً مِنِّی ولتصنع علٰی عینی سینصرک رجال نوحی الیھم من السّماءِ یأتون من کل فج عمیق۔ یأتیک من کلّ فج عمیق ۔ ولا تصعّر لخلق اللّٰہ ولا تسئم من الناس۔ براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۱و۲۴۲۔ ترجمہ یعنی میں نے اپنی طرف سے تیری ڈاکخانوں کے رجسٹر اس بات کے گواہ ہیں کہ اس کے بعد کس قدر روپیہ آیا اور سرکاری تحریریں گواہ ہیں کہ کس قدر مہمان آئے۔