جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں میں نے جواب دیاکہ وہ خدا جس کو تم لوگ نہیں پہچانتے اس نے یہ خبر دی ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۲۶۔ ایک دفعہ قادیان کا ایک آریہ جو سرگرم آریہ ہے ملاوامل نام مرض دق میں مبتلا ہو گیا اور تپ پیچھا نہیں چھوڑتا تھا اور آثار نومیدی ظاہر ہوتے جاتے تھے چنانچہ وہ ایک دن میرے پاس آ کر علاج کا طلبگار ہوا اور پھر اپنی زندگی سے نومید ہو کر بیقراری سے رویا اور میں نے اس کے حق میں دعا کی خدا تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا قلنا یا نار کونی بردًا وسلامًا۔یعنی ہم نے کہا کہ اے تپ کی آگ سرد اور سلامتی ہو جا چنانچہ بعد اس کے اسی ہفتہ میں وہ ہندو اچھا ہو گیا اور اب تک زندہ موجود ہے۔ براہین احمدیہ صفحہ ۲۲۷۔ جب کتاب براہین احمدیہ کے بعض حصے طیار ہو گئے تو مجھے خیال آیا کہ ان کو چھاپ دیا جاوے مگر میرے پاس کچھ سرمایہ نہیں تھا تب میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ لوگ مدد کی طرف متوجہ ہوں اُسی وقت تھوڑی سی غنودگی ہو کر جواب ملا (بالفعل نہیں) تب باوجود بہت سی کوشش کے کسی نے ایک پیسہ بھی نہیں بھیجا اور ایک مدت گزر گئی۔ دیکھو براہین صفحہ ۲۲۵۔ پیشگوئی نمبر ۳۹ کا گواہ خود ملاوامل آریہ ہے اس کو خوب یاد ہو گا کہ کیسی نومیدی کے وقت میں یہ الہام اس کو بتلایا گیا اور پھر ایک ہفتہ تک اچھا ہو گیا۔ اور پیشگوئی نمبر ۴۰ کے تو بہت گواہ ہیں اور بعض اسی جگہ موجود ہیں۔