جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں میری تائید میں بیان فرمائیں
کے لئے چل نہیں سکتا اور پرمیشر خالی ہاتھ رہ جاتا ہے کیونکہ جو شخص گناہ سے نجات پا گیا وہ تو پرمیشر کے ہاتھ سے گیا اس لئے کہ اس کا کوئی گناہ نہیں رہا۔ لہٰذا وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا اور اس سے وید کا یہ اصول جھوٹا ہوتا ہے کہ روحیں باربار دنیا میں آتی ہیں ۔ ان باتوں میں سے کسی بات کا جواب دیانند نے نہ دیا اور اجمیر میں جا کر نامرادی کی حالت میں مر گیا۔
ایک دفعہ یہ وحی الٰہی میری زبان پر جاری ہوئی کہ عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان۔ وہ صبح کا وقت تھا اور اتفاقاً چند ہندو اس وقت موجود تھے ۔ ان میں سے ایک ہندو کا نام بشنداس تھا میں نے سب کو اطلاع دی کہ خدا نے مجھے یہ سمجھایا ہے کہ آج اس نام کے ایک شخص کی طرف سے کچھ روپیہ آئے گا۔ بشنداس بول اٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاکخانہ میں جاؤں گا۔ چونکہ قادیان میں ڈاک ان دنوں میں دوپہر کے بعد دو بجے آتی تھی وہ اسی وقت ڈاکخانہ میں گیا اور جواب لایا کہ ڈاک منشی کی زبانی معلوم ہوا کہ درحقیقت ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک شخص عبداللہ خان نے جو اکسٹرا اسسٹنٹ ہے روپیہ بھیجا ہے۔ اور پھر اس نے بہت متعجب اور حیرت زدہ ہو کر پوچھا کہ یہ کیونکر معلوم ہو گیا
اس پیشگوئی نمبر ۳۸ کا وہی بشنداس گواہ ہے جو ساکن قادیان ہے اور اب تک زندہ موجود ہے۔