جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں پنڈت دیانند آریوں کے سرگروہ کی وفات کی خبر تین ماہ اس کے مرنے سے پہلے دی گئی اور لالہ شرمپت وغیرہ آریوں ساکنان قادیان کو وہ پیشگوئی سنائی گئی۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۳۵۔ یہ لوگ اگر حلف دی جاوے تو سچ سچ کہہ دیں گے۔ پنڈت دیانند کے مرنے پر ہمیں بہت افسوس ہوا اس لئے کہ وہ ہمارے چند سوالات کے جواب دینے سے پہلے ہی گزر گیا۔ ایک یہ سوال تھا کہ اواگون یعنی شامت اعمال سے جون بدلنا یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے کتے بلے بن جانا۔ یہ تو بقول آریہ صاحبان کروڑہا برسوں سے ان کے گلے پڑا ہوا ہے لیکن باوجودیکہ وہ معدودے چند تھے غیر محدود نہ تھے اب تک نجات نہیں ہوئی۔ یا تو پرمیشر نجات دینا نہیں چاہتا یا کوئی قاعدہ نجات کا وید میں مقرر نہیں اور ظاہر ہے کہ بغیر یقین کے انسان گناہ سے رک نہیں سکتا سو وید نے کوئی ذریعہ پرمیشر پر یقین لانے کا پیش نہیں کیا اس لئے آریوں کے پاس خدا شناسی کا کوئی یقینی طریق نہیں پس شائد اسی وجہ سے کیڑوں مکوڑوں کی اب تک خلاصی نہیں ہوتی ایک تو یہی سوال تھا۔ دوسرا یہ کہ آریہ کی عورت ایک ہی وقت میں ایک خاوند اور ایک اور شخص بطور یارانہ رکھ سکتی ہے۔ کیا یہ دیوّثی نہیں۔ تیسرا یہ کہ اگر پرمیشر روحوں کا پیدا کرنے والا نہیں اور روحیں کسی وقت گناہ سے نجات پا سکتی ہیں تو جیسا کہ وید کا اصول ہے دنیا کا سلسلہ ہمیشہ اس پیشگوئی کا گواہ لالہ شرمپت آریہ اور چند مسلمان ہیں لیکن شرمپت کی گواہی مضبوط ہے صرف قسم کی حاجت ہے۔