جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
محمد بخش طاعون سے مرا۔ تینوں مولوی لدھیانہ کے ہلاک کئے گئے۔ محمد حسن بھیں ہلاک کیا گیا۔ غلام دستگیر قصوری ہلاک کیا گیا۔ محی الدین لکھو کے والا ہلاک کیا گیا۔ اور اصغر علی کی ایک آنکھ جاتی رہی اور مولوی محمد حسین عَفِّرِ کی دعا کے نیچے آ گیا کیونکہ عَفَرَ لغت عرب میں خاک آلودہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ سو وہ تکفیر کی جمعداری سے بحکم حاکم روکا گیا اور زمینداری کی گردو غبار میں آلودہ کیا گیا کیونکہ خاک میں غلطاں پیچاں ہونا لوازم زمینداری میں سے ہے۔ وجہ یہ کہ ہر وقت خاک سے ہی کام پڑتا ہے۔ اس قدر تو وقوع میں آ گیا ابھی معلوم نہیں کہ اس کا حصہ اور کس قدر باقی ہے۔
کتاب نور الحق کے صفحہ ۳۵ سے ۳۸ تک بذریعہ الہام الٰہی طاعون کی خبر دی گئی ہے جو چھ برس بعد ظہور میں آئی ۔ صفحہ ۳۵ میں یہ عبارت ہے۔ اِعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ نَفَث فِیْ رَوْعِیْ انَّ ھٰذَا الْخَسُوْف وَالکسوف فِیْ رَمَضَان اٰیَتَانِ مخوفتانِ لِقَوْم اتّبعُوا الشّیْطان۔۔۔ وَلَءِنْ اَبَوا فَاِنَّ الْعَذَابَ قَدْحَان۔ ترجمہ۔ خدا نے اپنے الہام کے ساتھ میرے دل میں پھونکا ہے کہ خسوف کسوف ایک عذاب کا مقدمہ ہے یعنی طاعون کا جو قریب ہے۔
پیشگوئی نمبر ۳۵ کا ثبوت گذر چکا ہے وہی ثبوت پیشگوئی نمبر ۳۶ کا ہے۔