جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں اور اس زمانہ میں طاعون کے پھیلنے کی کچھ بھی امید نہ تھی پس دیکھو یہ کس قدر عظیم الشان غیب کی خبریں ہیں جو برابر بائیس برس سے مسلسل طور پر شائع ہو رہی ہیں اور متواتر خبر دی گئی کہ ملک میں طاعون آنے والی ہے۔ عرصہ نو برس کا جاتا ہے کہ کتاب سرالخلافۃ کے صفحہ ۶۲ میں مخالفوں پر تباہی پڑنے اور نیز طاعون نازل ہونے کے لئے دعا کی گئی تھی سو اب تک ہزارہا مخالف طاعون اور دوسری آفات سے ہلاک اور تباہ ہو چکے ہیں اور وہ دعا یہ ہے۔ وخذ ربّ مَن عادی الصّلاح ومُفسدًا و نزّل علیہ الرِجْز حقًّا و دَمّرٖ وَفَرِّجْ کُرُوبِیْ یَا کَرِیْمی وَ نَجِّنِیْ و مزّق خصیمی یَا الٰہی و عَفّرٖ ترجمہ: یعنی اے میرے خدا ہر ایک پر جو مفسد ہے طاعون نازل کر یا کسی دوسری موت سے ہلاک کر یا کوئی اور مواخذہ کر اور مجھے غموں سے نجات بخش اور میرے دشمن کو پارہ پارہ کر اور خاک میں ملا دے اور خاک سے آلودہ کر اور خاک میں غلطاں پیچاں کر۔ سو ملک میں طاعون نازل ہو کر ہزار ہا بخیل جو ہمارے سلسلہ کے دشمن تھے طاعون سے فوت ہو گئے۔ ابھی آئندہ کی خبر نہیں ماسوا اس کے جو منتخب مولوی تھے بعض ان میں اندھے ہو گئے اور بعض کانے ہو گئے اور بعض دیوانے اور بہت سے ان میں سے مر گئے چنانچہ برطبق اس دعا کے مولوی شاہ دین دیوانہ ہو گیا۔ رشید احمد اندھا ہو گیا۔ پیشگوئی نمبر ۳۵ کے ثبوت کے لئے بھی سرکاری نقشجات کافی ہیں اور یہ پیشگوئی کتاب سرالخلافہ میں موجود ہے۔