جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں میری تائید میں بیان فرمائیں اسی طرح اس زمانہ میں جب کہ بمبئی میں بھی طاعون کا نام و نشان نہ تھا طاعون کے آنے کے لئے دعا کی گئی اور وہ دعا منظور ہو گئی چنانچہ ۱۳۱۱ہجری میں جس کو نو برس ہو گئے یہ دعائیہ شعر حمامۃ البشریٰمیں موجود ہے۔ فَلَمَّا طَغَی الفِسْقُ الْمُبِیْدُ بِسَیْلِہٖ تَمَنَّیْتُ لَوْکَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبّرٗ دیکھو صفحہ اول قصیدہ حمامۃ البشریٰ یعنی جب فسق کا طوفان برپا ہوا تو میں نے خدا سے چاہا کہ طاعون آوے۔ ایسا ہی طاعون کے بارے میں رسالہ سراج منیر صفحہ ۵۹ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ جن لوگوں نے لیکھرام کے متعلق کی پیشگوئی کو قبول نہیں کیا تھا ان پر بھی طاعون کی بلا نازل ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۱؂ یعنی جنہوں نے گو سالہ کو عزت دی اور اس کی پرستش کی ان پر غضب آئے گا اور ذلت کی مار ان پر پڑے گی سو دنیا میں غضب نازل ہونے سے مراد طاعون ہے اور اسی کتاب کے صفحہ ۶۰ میں طاعون کی نسبت یہ الہام بھی لکھا تھا یا مسیح الخلق عدوانا یعنی طاعون کے غلبہ کے وقت لوگ کہیں گے کہ اے مسیح ہماری شفاعت کر۔ اور اس کتاب کے شائع کرنے پر آج سے جو ۱۸ جولائی ۱۹۰۲ ؁ء ہے پانچ برس گذر گئے ان دونوں پیشگوئیوں نمبر ۳۳و ۳۴ کے ثبوت میں سرکاری نقشجات کافی ہیں جن کا ہم صفحہ ۱۵۳و۱۵۴ میں ذکر کر آئے ہیں۔