جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں میری تائید میں بیان فرمائیں
دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے اور الہام ہوا کہ الامراض تشاع والنفوس تضاع انّ اللہ لا یغیّر ما بقومٍ حتّٰی یغیّروا ما بأنفسھم انّہٗ أوی القَرْیۃ یعنی یہ طاعون جو ملک میں شروع ہو گئی ہے یہ کبھی دور نہیں ہو گی اور یہ مرض پھیل جائے گی اور بہت موتیں ہوں گی اور کم نہیں ہوں گی جب تک لوگ اپنے اعمال کی اصلاح نہ کریں مگر اس قادر خدا نے قادیان کو متفرق اور منتشر ہونے سے بچا لیا ہے یعنی قادیان پر ایسی تباہی نہیں آئے گی کہ اس قصبہ کو بکلی برباد کر دے اور فنا کر دے اور منتشر کر دے اور قادیان بکلی طاعون سے محفوظ بھی رہ سکتی ہے مگر بشرط توبہ یعنی اس شرط سے کہ تمام لوگ اپنی بد زبانیوں اور بد اعمالیوں اور خباثتوں سے توبہ کر لیں۔ دیکھو اشتہار طاعون شائع کردہ ۶ فروری ۱۸۹۸ء و۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء۔ یہ رؤیا اور الہام تھا کہ مجھے دکھایا گیا اور بتایا
گیا اور پھر اشتہار ۶؍ فروری ۱۸۹۸ء سے اور۴ برس کے بعد عام طور پر پنجاب میں طاعون پھیل گئی چنانچہ یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء سے ۱۹ جولائی ۱۹۰۲ء تک عرصہ پونے دس ماہ میں اس قدر پھیل گئی کہ کل ۲۳ اضلاع پنجاب کے اس سے آلودہ ہو گئے۔ دیکھو سرکاری نقشجات متعلقہ طاعون پنجاب ۔ پس یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی یعنی فروری ۱۸۹۸ء میں جبکہ تمام پنجاب میں صرف دو ضلعے طاعون سے آلودہ تھے۔ دیکھو اخبار عام ۲؍ اگست ۱۹۰۲ء جس میں یہ سرکاری شہادت درج ہے۔
مگر بعد اس کے پنجاب کے ۲۳ ضلعے اس مرض سے آلودہ ہو گئے اور پونے دس ماہ میں تین لاکھ سولہ ہزار کیس ہوئے اور دو لاکھ اٹھارہ ہزار سات سو ننانوے فوتیاں ہوئیں۔ دیکھو سرکاری نقشجات۔