جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے یعنی بے کار ہو گئے اور وہ بھی ہلاک ہو گیا یعنی ضلالت کے گڑھے میں گرا اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے۔ اور جو کچھ تجھے دکھ پہنچے گا وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ تیرے لئے ایک فتنہ ہو گا۔ پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا وہ خدا کی طرف سے اس لئے فتنہ ہے تا وہ بہت ہی تجھ سے پیار کرے اس خدا کا پیار جو عزیز اور بزرگ ہے اور یہ وہ نعمت ہے جو کبھی نہیں چھینی جائے گی۔ اس جماعت میں سے دو بکریاں ذبح کی جائیں گی ہر ایک جاندار آخر مرنے کو ہے۔ دیکھو اب اس پیشگوئی پر انصاف سے غور کرو کہ اس زمانہ سے پہلے کی یہ پیشگوئی ہے کہ جب مولوی محمد حسین نے براہین احمدیہ پر ریویو لکھا تھا اور یہ پیشگوئی بھی پڑھی تھی کیا بغیر خدا کے کسی کا کام ہے کہ اس پوشیدہ غیب کی خبر دیدے جس کی کسی کو بھی اطلاع نہیں تھی۔ براہین احمدیہ صفحہ ۱۵۰۔
خدا نے عالم رؤیا میں اپنی وحی خاص سے میرے پر ظاہر کیا کہ پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے جا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں انہوں نے جواب
پیشگوئی نمبر ۳۱ کا ثبوت گذر چکا ہے اور پیشگوئی نمبر ۳۲ کو ہم نے اپنے اشتہار ۶ فروری ۱۸۹۸ ء اور ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ ء میں شائع کیا تھا جو بہت صفائی سے پوری ہو گئی۔ جب یہ پیشگوئی ۶ فروری ۱۸۹۸ ء میں شائع ہوئی تب پنجاب میں صرف دو ضلع آلودہ تھے۔