جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْ کَفّرَ اَوْقِدْلِیْ یَا ھامَان لَعَلِّی اَطَّلِعُ عَلٰی اِلٰہِ مُوْسٰی وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ۔ تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ۔ مَاکَانَ لَہٗ اَنْ یَّدخُلَ فِیْھَا اِلاَّ خَاءِفًا۔ وَمَا اَصَابَکَ فَمِنَ اللّٰہِ۔ اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوالْعَزْمِ اَ لَآ اِنَّھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ۔ لِیُحِبَّ حُبًّاجَمَّا۔ حُبًّا مِنَ اللّٰہ العزیز الاکرم عَطَاءً ا غَیْر مجذوذ۔ شاتان تذبحان و کُلّ من علیھا فان۔ترجمہ۔ اور یاد کر وہ زمانہ جب کہ ایک ایسا شخص تجھ سے مکر کرے گا کہ جو تیری تکفیر کا بانی ہو گا اور اقرار کے بعد منکر ہو جائے گا(یعنی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) اور وہ اپنے رفیق کو کہے گا (یعنی مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کو) کہ اے ہامان میرے لئے آگ بھڑکا یعنی کافر بنانے کے لئے فتویٰ دے میں چاہتا ہوں کہ موسیٰ کے خدا کی تفتیش کروں اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ اس جگہ خداتعالیٰ نے میرا نام موسیٰ رکھا تا اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ جس نظر سے یعنی نہایت تحقیر اور استخفاف سے فرعون نے موسیٰ کو دیکھا تھا اور کہتا تھا کہ یہ میرا ہی پرورش یافتہ ہے اور میں ہی اس کو ہلاک کروں گا یہی طریق محمد حسین نے اختیار کیا اور نیز اس فتح کی طرف اشارہ ہے جو مقدر تھا کہ مجھے موسیٰ کی مانند فرعون پر حاصل ہو گی اور پھر مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہراکر تبّت یدا ابی لہب وتبّفرما دیا یعنی پیشگوئی نمبر ۳۱ کا ثبوت خود مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے ہاتھ سے دیا کہ میرے لئے کفرنامہ لکھا اور کافر ٹھہرایا ۔ پھر بعد اس کے بحکم حاکم تکذیب اور تکفیر سے روکا گیا۔ جیسا کہ پیشگوئی میں بیان ہے۔