جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں میں ان باتوں میں سے کسی بات کی علامت موجود نہ تھی (۳)سوم یہ کہ یہ الہام دلالت کر رہا ہے کہ آئندہ زمانہ میں کوئی آفت آنے والی ہے۔ اور جو شخص اخلاص کے ساتھ اس میں داخل ہو گا وہ اس آفت سے بچ جاوے گا اور براہین احمدیہ کے دوسرے مقامات سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ آفت طاعون ہے سو یہ پیشگوئی بھی اس سے نکلتی ہے کہ جو شخص پوری ارادت اور اخلاص سے جس کو خدا پسند کر لیوے اس مسجد میں داخل ہو گا وہ طاعون سے بھی بچایا جائے گا یعنی طاعونی موت سے۔ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِءُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۰۔ ترجمہ۔ مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے مُنہ کی پھونکوں سے بجھا ویں۔ یعنی بہت سے مکر کام میں لاویں گے۔ مگر خدا اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اگرچہ کافر لوگ کراہت ہی کریں۔ یہ اُس زمانہ کی پیشگوئی ہے کہ جب کہ اس سلسلہ کے مقابل پر مخالفوں کو کچھ جوش اور اشتعال نہ تھا اور پھر اس پیشگوئی سے دس۱۰ برس بعد وہ جوش دکھلایا کہ انتہا تک پہنچ گیا یعنی تکفیر نامہ لکھا گیا قتل کے فتوے لکھے گئے اور صدہا کتابیں اور رسالے چھاپ دئے گئے پیشگوئی نمبر ۲۷ کا ثبوت بیان ہو چکا اور پیشگوئی نمبر ۲۸ کا ثبوت خود ظاہر ہے کہ مخالف مولویوں نے اس سلسلہ کی بیخ کنی کے لئے ناخنوں تک زور لگایا مگر یہ سلسلہ آخر ترقی کر گیا۔