جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں
اور قریباً تمام مولوی مخالف ہو گئے اور کوئی ذلیل سے ذلیل منصوبہ نہ چھوڑا جو میرے تباہ کرنے کے لئے نہ کیا گیا مگر نتیجہ بر عکس ہوا اور یہ سلسلہ فوق العادت ترقی کر گیا۔
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَ لَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَد اَللّٰہُ الصَّمَد لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَد۔ وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔ اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوالْعَزْمِ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۱۔ ترجمہ۔ یعنی پادری صفت عیسائی جو اپنے زعم میں عیسائیت کے ناصر ہیں اور یہودی صفت مسلمان جو اپنے زعم میں یہودیوں کی طرح
عامل بالحدیث ہیں ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تو ان کے مذہب میں داخل نہ ہو۔ کہہ وہ خدا ایک ہے ۔ اور بے نیاز ہے ۔ نہ وہ کسی کا بیٹا
ہے نہ کوئی اس کا بیٹا اور یہ لوگ باہم مل کر کچھ مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور خدا بہتر مکر کرنے والا ہے۔ اور اس وقت تیرے لئے ایک فتنہ برپا ہو گا سو صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا ہے۔ یہ پیشگوئی اس فتنہ کے متعلق ہے کہ جو عیسائیوں اور مسلمانوں نے اول آتھم کے وقت کیا۔ اور پھر کلارک کے دعویٰ اقدام قتل کے وقت کیا اور
براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۱ میں مجھے مخاطب کر کے یہ پیشگوئی موجود ہے کہ پادری اور یہودی صفت مسلمان مل کر کوئی مکر کریں گے اور تم پر ایک فتنہ برپا کریں گے مگر خدا اصلیت ظاہر کر دے گا سو اول آتھم کے مقدمہ میں ایسا ہی ہوا کہ ان لوگوں نے مل کر پیشگوئی کو جھوٹی قرار دینا چاہا مگر خدا نے اس کی سچائی ظاہر کر دی۔ آتھم نے پیشگوئی کی شرط کے موافق دجال کہنے سے عین مجمع میں رجوع کیا اور بہت سا ہراساں اور خائف ہوا۔