جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں کی ماں ہے جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہو گی اسی کے مطابق دوسرا الہام ہے اور وہ یہ ہے الحمد للّٰہ الذی جعل لکم الصّھر والنسب یعنی وہ خدا جس نے باعتبار رشتہ دامادی اور باعتبار نسب تمہیں عزت بخشی۔ مبارک و مبارک و کل امرٍ مبارک یجعل فیہ۔ ومن دخلہ کَانَ اٰمِنًا۔براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۹۔ ترجمہ۔ یہ مسجد برکت دی گئی ہے اور برکت دینے والی ہے اور ہر ایک کام جو برکت دیا گیا ہے وہ اس میں کیا جائے گا۔ اور جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آ جائے گا۔ اس الہام میں تین قسم کے نشان ہیں (۱) اوّل یہ کہ اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مادۂ تاریخ بنائے مسجد ہے (۲) دوم یہ کہ یہ پیشگوئی بتلا رہی ہے کہ ایک بڑے سلسلہ کے کاروبار اسی مسجد میں ہوں گے چنانچہ اب تک اسی مسجد میں بیٹھ کر ہزارہا آدمی بیعت توبہ کر چکے ہیں اسی میں بیٹھ کر صد ہا معارف بیان کیے جاتے ہیں اور اسی میں بیٹھ کر کتب جدیدہ کی تالیف کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی میں ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا پنج وقت نماز پڑھتا ہے اور وعظ سنتے ہیں اور دلی سوز سے دعائیں کی جاتی ہیں اور بنائے مسجد کے وقت الحمد للّٰہ الذی جعل لکم الصّھر والنسب۔ تیسرا الہام تھا بکروثیب یعنی تمہارے لئے مقدر ایک بکر ہے اور ایک بیوہ۔ یہ الہام بخوبی یاد ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب کو میں نے بمقام بٹالہ انہی کے مکان پر سنایا تھا اتفاقاً انہوں نے دریافت کیا تھا کہ کوئی تازہ الہام ہے تب میں نے سنا دیا تھا۔ اور پیشگوئی نمبر ۲۷ کے مطابق پچاس ہزار سے بھی زیادہ اب تک اس مسجد میں نماز پڑھ چکے ہیں اور ان کو خدا نے طاعون اور ہریک وبا سے بچایا ہے۔