جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں اور محی الدین لکھو کے والے نے بھی اسی مضمون کا الہام شائع کیا یعنی یہ الہام شائع کیا کہ مرزا صاحب فرعون مگر جیسا کہ الحکم ۲۴جولائی ۱۹۰۱ ؁ء کے صفحہ ۵ دوسرے کالم میں شائع ہو چکا ہے میری پیشگوئی کے مطابق وہ فوت ہو گیا۔ ایسا ہی رشید احمد گنگو ہی اپنے اشتہار کے بعد اندھا ہو گیا۔ شاہدین مخالف لدھانوی دیوانہ ہو گیا اور محمد حسن بھیں میرے مقابلہ اعجاز المسیح پر یہ کلمہ لکھتے ہی کہ *** اللّٰہ علی الکاذبین اپنے منہ کی *** سے ہی پکڑا گیا اور مر گیا۔ ایسا ہی لدھانہ کے تین مولوی بھی یعنی عبداللہ۔ عبدالعزیز۔ محمد وہ تینوں میرے مقابل پر گندے اشتہار لکھنے کے بعد مر گئے۔ یہ خدا کے زور آور حملے ہیں جن سے سچائی ظاہر ہے اور انہی پر ختم نہیں ابھی اور حملے بھی ہیں آسمان نہیں تھکے گا جب تک زمین اپنی شوخیاں نہیں چھوڑتی۔ اشکر نعمتی رئیت خدیجتی ۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸۔ ترجمہ۔ میرا شکر کر کہ تونے میری خدیجہ کو پایا۔ یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا جس سے بفضلہٰ تعالیٰ چار لڑکے پیدا ہوئے اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل پیشگوئی نمبر ۲۵ پر تو ایک دنیا گواہ ہے کہ پہلے کیا تھا اور پھر کیا ہو گیا۔ اور پیشگوئی نمبر ۲۶ یعنی شادی کے معاملے میں جو آج سے اٹھارہ۱۸ برس ہوئے دہلی میں ہوئی تھی آریہ شرمپت اور ملاوامل اور اکثر دوست گواہ ہیں کہ ان کو اس پیشگوئی کی پہلے خبر دی گئی تھی۔ اس شادی کے متعلق تین الہام تھے۔ ایک یہی کہ جو براہین احمدیہ میں صفحہ ۵۵۸ میں درج ہو گیا۔ دوسرا الہام تھا