جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی کی خارق عادت پیشگوئیاں جودنیا پر ظاہر ہوچکیں الفتنۃ ھٰھُنا فاصبر کما صبراولو العزم۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ۷ ۵۵۔ اور خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں دو امر کی خبر دی ہے (۱) اول یہ کہ دنیا سخت مقابلہ کرے گی اور کسی طرح قبول نہیں کرے گی اور وہ اپنی طرف سے زمین پر گرا دے گی اور جھوٹا ہونے کا الزام دے گی جیسا کہ آتھم کے شرطی میعاد کے بعد نادان مسلمانوں نے عیسائیوں کے ساتھ مل کر شور برپا کیا اور اپنے خیال میں گرا دیا اور خدا نے لیکھرام کو قتل کر کے گرنے کے بعد پھر اٹھایا (۲) دوسری یہ کہ خدا اس پیشگوئی میں وعدہ کرتا ہے کہ میں زور آور حملوں سے اس مرسل کی سچائی ظاہر کروں گا۔ سو وہی زور آور حملے ہیں کہ کھلے کھلے نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور دشمن خود بخود مر رہے ہیں۔ قوم کے دشمنوں نے اس نور کو بجھانے کے لئے ناخنوں تک زور لگائے مگر یہ جماعت جو اول صرف دو تین آدمی تھے اب ستر ہزار تک پہنچ گئی اور خدا کے قہر کے ہاتھ نے سرغنہ مخالفوں کے پانچ حصوں میں سے تین حصے دنیا پر سے اٹھا لئے۔ اسمٰعیل مولوی علیگڑھ جس نے کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے (یعنی وہ اور میں) جو شخص جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ چنانچہ خود وہ پہلے مر گیا اور غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب فتح رحمانی میں مجھے جھوٹا قرار دے کر خدا تعالیٰ سے جھوٹے کی موت چاہی سو وہ اس مباہلہ کو شائع کر کے پھر زندہ نہ رہ سکا اور چند ہی روز میں فوت ہو گیا۔ دیکھو کتاب فتح رحمانی صفحہ ۲۶ و ۲۷ اس پیشگوئی کا ثبوت ظاہر ہے کیونکہ خدا نے لیکھرام کو مار کر ثابت کر دیا کہ اس کا یہ بندہ اس کی طرف سے ہے۔