جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جوظہور میں آچکیں
سے پہلے قبول کر لے گی اور دوسری وہ جماعت ہے جو نشانوں کو دیکھ کر بکثرت جوق جوق سلسلہ بیعت میں داخل ہو گی۔ اب بتلاؤ کہ کیا حسب اس پیشگوئی کے وقوع میں آ گیا یا نہیں ایسی آنکھیں تو بند نہیں کرنی چاہئیں جیسا کہ اندھوں کی آنکھیں ہوتی ہیں ذرہ دریافت کرو خواہ سرکاری کاغذات دیکھ لو کہ کیا براہین احمدیہ کے وقت سات آدمی بھی تھے اور کیا اب ستر ہزار آدمی میرے ساتھ داخل بیعت ہیں یا نہیں یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ تائید اور رحمت سے ملی ہوئی پیشگوئی ہے۔
قریباً پندرہ برس پہلے براہین احمدیہ کی تالیف سے مجھے بذریعہ زیارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں اطلاع دی گئی کہ میں ایک کتاب تالیف کروں گا اور اس کتاب کو مسلمانوں میں عام قبولیت کا مرتبہ حاصل ہو گا اور مخالف اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ چنانچہ پندرہ برس کے بعد براہین احمدیہ تالیف کی گئی اور اس میں یہ تمام تذکرہ موجود ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۸ و ۲۴۹
شرمپت آریہ جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے اس کا بھائی بشمبر داس نامی اور ایک دوسرا شخص خوشحال نامی ایک مقدمہ میں دونوں قید ہو گئے تھے جب
پیشگوئی نمبر ۲۰ کا ثبوت ہم لکھ چکے ہیں ۔ اور پیشگوئی نمبر ۲۱ کا ثبوت وہ گواہ ہیں جن کے پاس یہ خواب بیان کی گئی تھی اور اب تک ان میں سے بعض زندہ ہیں اور نیز خود براہین احمدیہ بھی گواہ ہے کیونکہ جس قبولیت کی یہ رؤیا بشارت دیتی تھی جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۸اور۲۴۹ میں چھپ گئی۔ چھپنے کے وقت اس قبولیت کا کوئی نشان ظاہر نہ تھا بلکہ مالی مشکلات پیش آئی تھی لیکن ایک مدت کے بعد براہین احمدیہ کے لوگوں میں قبولیت اور شہرت پھیل گئی اور پیشگوئی نمبر۲۲ اس تمام گاؤں میں ایک مشہور واقعہ ہے اور کئی مسلمان اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتے ہیں مگر