جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جوظہور میں آچکیں بلکہ دوستی کی حیثیت کا رنگ ا ن پر غالب ہوتا ہے اور صریح دنیا کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا اس شخص کی دوستانہ طور پر حمایت کر رہا ہے ۔ اور جو کام دشمنوں کی حیثیت سے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ایک موذی عذاب ہوتا ہے اور ایسے نشان ظاہر ہوتے ہیں جن سے صریح دکھائی دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس قوم یا اس شخص سے دشمنی کر رہا ہے اور خدا جو اپنے دوست کے ساتھ کبھی یہ معاملہ کرتا ہے جو تمام دنیا کو اس کا دشمن بنا دیتا ہے اور کچھ مدت کے لئے ان کی زبانوں یا ان کے ہاتھوں کو اس پر مسلط کر دیتا ہے۔ یہ اس لئے خدائے غیور نہیں کرتا کہ اس اپنے دوست کو ہلاک کرنا چاہتا ہے یا بے عزت اور ذلیل کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ تا دنیا کو اپنے نشان دکھاوے اور تا شوخ دیدہ مخالفوں کو معلوم ہو کہ انہوں نے دشمنی میں ناخنوں تک زور لگا کر نقصان کیا پہنچایا ۔ ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاٰخرینصفحہ ۵۵۶۔ ترجمہ۔ دو گروہ یعنی دو جماعتیں تمہیں عطا کی جاویں گی ایک وہ جماعت ہے جو نزول آفات زمانہ میں مریدانہ طور پر مجھ سے کوئی تعلق رکھتا تھا بلکہ میرے روشناس بھی صرف چند آدمی ہی نکلیں گے اور خود گورنمنٹ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ قادیان میں میرے لئے کسی کی آمدورفت نہ تھی۔ اور پیشگوئی نمبر بیس۲۰ کا ثبوت بھی براہین احمدیہ پر غور کرنے سے کھلتا ہے کیونکہ براہین احمدیہ جس میں یہ پیشگوئی ہے بتلا رہی ہے کہ براہین کا زمانہ تنہائی کا زمانہ تھا اور اب ہمارے سلسلہ میں ہزارہا آدمی شامل ہیں۔