جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُس کی خارق عادت پیشگوئیاں جوظہور میں آچکیں
اپیل گذار شرمپت نے جیسا کہ اضطرار کے وقت ہندوؤں کا حال ہوا کرتا ہے مجھ سے دعا کی درخواست کی اور انجام دریافت کیا۔ تب دعا کرنے کے بعد رات کے وقت خدا تعالیٰ نے رؤیا میں کل حقیقت مقدمہ کی مجھ پر کھول دی اور ظاہر کیا کہ دعا اس طور پر قبول ہو گی کہ بشمبر داس کی نصف قید تخفیف کر دی جائے گی اور یوں ہو گا کہ اس مقدمہ کی مثل عدالت چیف کورٹ سے پھر ماتحت عدالت میں واپس آئے گی اور اس عدالت سے بشمبرداس کی قید صرف آدھی رہ جائے گی اور آدھی معاف کر دی جائے گی اور اس کا دوسرا رفیق خوشحال نامی پوری قید بھگت کر خلاصی پائے گا اور ایک دن بھی کم نہیں ہو گا اور وہ بھی بَری نہیں ہو گا۔ اسی وقت اس رؤیا سے بہت سے آدمیوں کو اطلاع دی گئی اور شرمپت کو بھی بلا کر اطلاع دی گئی اور آخر اسی طرح وقوع میں آیا جس طرح پیشگوئی کی گئی تھی۔ دیکھوبراہین احمدیہ صفحہ ۲۵۱۔
مقدمہ مذکورہ بالا جس میں بشمبرداس قید ہوا تھا بصورت اپیل چیف کورٹ میں دائر کیا گیا تو بشمبرداس کے بھائی مسمّی دھنپت نے گاؤں میں آ کر مشہور کر دیا کہ ہماری اپیل منظور ہو گئی اور بشمبرداس بَری ہو گیا۔ یہ خبر عشاء کے وقت مشہور
پیشگوئی نمبر ۲۲ ، پیشگوئی نمبر ۲۳ کی نسبت بشمبرداس کے حقیقی بھائی شرمپت کی گواہی کافی ہے جس نے مجھ سے دعا کرائی تھی اور جس کا نتیجہ نصف قید کی تخفیف ہوئی تھی شرمپت کو قبل از وقت خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر مقدمہ کا انجام میں نے بتلا دیا تھا کہ مثل واپس آ گئی اور بشمبرداس کی نصف قید تخفیف کی جائے گی بری نہیں ہو گا۔ اس قدر تخفیف دعا کا نتیجہ ہے۔ مگر خوشحال اس کا رفیق بالکل بری نہیں ہو گا ایک دن بھی اس کا کم نہیں ہو گا۔