جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں اس الہام کے تھے کہ ھٰذا شاھد نزاغ۔ سو اس طرح پر حافظ نوراحمد امرتسری نے جو ہمارے مخالف تھا پیشگوئی کا سن بھی لیا اور پھر اس کو پورے ہوتے دیکھ بھی لیا۔ مذکورہ بالا آریہ جو میرے پاس ہر روز آتے تھے وہ بھی اس بات کے گواہ ہیں میرے ملازم اور متعلقین بھی گواہ ہیں اب دیکھو کہ علم غیب تو خاصہ خدا ہے اگر یہ الہامات خدا کی طرف سے نہیں تو کیا نعوذ باللہ شیطان ایسے صاف اور صریح غیب پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ یعنی صاف اور صریح غیب محض برگزیدہ رسولوں کو دیا جاتا ہے اگر کوئی ان بیانات کو جھوٹا سمجھتا ہے تو اُسے سمجھنا چاہئے کہ ۲۰برس کے یہ الہامات شائع ہیں اور کتاب میں گواہوں کے نام درج ہیں مگر کسی نے تکذیب شائع نہ کی اور انسان جھوٹ پر صبر نہیں کر سکتا اور اب بھی اکثر گواہ زندہ ہیں اور اگر اب بھی تسلی نہیں تو ایسے مکذب کو اختیار ہے کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین سے ہی فیصلہ کر لے۔ ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے چنانچہ میں نے شرمپت اور ملاوامل مذکور بالا آریوں کو یہ پیشگوئی بتلائی مگر اُن آریوں نے اس بات پر ضد کی کہ انہیں میں سے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۷۴و۴۷۵ میں یہ ہر دو پیشگوئیاں الفاظ مذکورہ بالا کی موجود ہیں وہ ہر دو آریہ مخالف دین اور ہندو ہیں اب تک زندہ موجود ہیں دشمن دین ہیں قسم کے ساتھ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ پس دیکھو خوارق اور معجزات اس کو کہتے ہیں جس کے دشمن گواہ ہوں ۔ ایسا ہی